آئی پی ایل 2026 دس ہندوستانی کپتان، کس کے سر سجے گا جیت کا تاج
اس بار تمام دس ٹیموں کی قیادت ہندوستانی کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہے
نئی دہلی : آئی پی ایل 2026 کا میلہ سجنے کو ہے اور اس بار تمام دس ٹیموں کی قیادت ہندوستانی کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان میں سے کچھ خود کو ثابت کرنے کے لیے بے تاب ہیں، تو کچھ ٹی-20 کرکٹ کی بلندیوں پر موجود ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ گزشتہ سیزن سے اب تک ان کپتانوں کا سفر کیسا رہا اور اس بار ان سے کیا توقعات وابستہ ہیں۔
1: رجت پاٹی دار (رائل چیلنجرز بنگلور – آر سی بی )
پاٹی دار کے پاس جیسے کوئی جادوئی چھڑی ہے۔ آر سی بی کے 18ویں سیزن میں کپتان بنتے ہی انہوں نے ٹیم کو پہلی بار ٹائٹل جتوانے کے قریب پہنچا دیا۔ اگرچہ گھٹنے کی چوٹ اور حالیہ خراب فارم نے ان کی رفتار روکی ہے، لیکن فٹ ہو کر واپسی کرنے والے پاٹی دار ایک بار پھر آر سی بی کو ٹرافی دلانے کی کوشش کریں گے۔
2. شریاس ایئر (پنجاب کنگز -پی بی کے ایس)
شریاس ایئر ہندوستانی ٹی-20 ٹیم سے باہر ہونے کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب کو فائنل تک پہنچانے والے ایئر انجری کے باعث ورلڈ کپ سے باہر رہے، لیکن اب وہ آئی پی ایل میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
3. ہاردک پانڈیا (ممبئی انڈینز – ایم آئی )
ہاردک کے لیے گزشتہ چند ماہ خواب جیسے رہے ہیں۔ ایشیا کپ اور ٹی-20 ورلڈ کپ میں بطور فنشر ان کا کردار اہم رہا۔ اب وہ 2020 کے بعد ممبئی انڈینز کو پہلا فائنل جتوانے کا ہدف لیے میدان میں اتریں گے۔
4. شبھمن گل (گجرات ٹائٹنز – جی ٹی )
گل کے لیے حالیہ عرصہ اتار چڑھاؤ والا رہا۔ ورلڈ کپ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد وہ اب احمد آباد کی سپاٹ پچوں پر اپنی بیٹنگ کا جادو جگانے اور ٹیم کو حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار ہیں۔
5. اکشر پٹیل (دہلی کیپیٹلز – ڈی سی )
بڑے ستاروں کے درمیان بھی اپنی شناخت بنانے والے اکشر پٹیل ورلڈ کپ کی جیت کے ہیرو رہے۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی باؤلنگ نے بھارت کو چیمپئن بنایا۔ اب وہ اپنی اسی فارم کو دہلی کیپیٹلز کی کپتانی میں استعمال کریں گے۔
6. ایشان کشن (سن رائزرز حیدرآباد – ایس آر ایچ)
کشن کا ستارہ ان دنوں گردش سے نکل کر بلندیوں پر ہے۔ سید مشتاق علی ٹرافی جتوانے کے بعد ورلڈ کپ فائنل میں 54 رنز کی اننگز نے انہیں خود اعتمادی بخشی ہے۔ پیٹ کمنز کی عدم موجودگی میں وہ ایس آر ایچ کی قیادت سنبھالیں گے۔
7. رشبھ پنت (لکھنؤ سپر جائنٹس – ائل ایس جی )
پنت کے لیے پچھلا سیزن اور انجریز کا دور مشکل رہا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ کپتانی کے بعد اب وہ لکھنؤ سپر جائنٹس کے ساتھ اپنی قسمت بدلنے اور تسلسل برقرار رکھنے کی امید کر رہے ہیں۔
8. اجنکیا رہانے (کولکتہ نائٹ رائیڈرز – کے کے آر)
37 سالہ رہانے کے لیے یہ شاید آخری موقع ہو۔ اگرچہ انہوں نے دسمبر سے مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی، لیکن سید مشتاق علی ٹرافی میں ان کا 161 کا اسٹرائیک ریٹ کے کے آر کے لیے امید کی کرن ہے۔
9. ریان پراگ (راجستھان رائلز – آر آر)
راجستھان رائلز نے سنجو سیمسن کی جگہ نوجوان ریان پراگ پر بھروسہ کیا ہے۔ اگرچہ حالیہ فارم کچھ خاص نہیں رہی، لیکن 24 سالہ پراگ اپنی جارحانہ قیادت سے سب کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
10. رتراج گائیکواڑ (چنئی سپر کنگز – سی ایس کے)
ایم ایس دھونی کے جانشین گائیکواڑ کے لیے یہ سیزن ‘تھرڈ ٹائم لکی’ ثابت ہو سکتا ہے۔ انجری سے واپسی کے بعد ون ڈے میں سنچریوں کی ہیٹرک کرنے والے رتراج سی ایس کے کو دوبارہ ٹاپ پر لانے کے لیے تیار ہیں۔