ایران نے ہندوستان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی: عباس عراقچی
دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’’اپنے آپ سے مذاکرات‘‘ کر رہے ہیں، اور ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا ہے۔
نئی دہلی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران نے ہندوستان اور بعض دیگر ’’دوست ممالک‘‘ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے وزیر خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران نے ہندوستان، روس، چین، عراق اور پاکستان سمیت دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے چین، روس، ہندوستان، عراق اور پاکستان سمیت دوست ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ ’’دشمنوں اور ان کے اتحادیوں‘‘ کے لیے بند رہے گا۔
آبنائے ہرمز، جو کہ ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے اور جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے، امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بلاک کر دیا گیا تھا۔
عراقچی نے واضح کیا، "ہمارے نقطہ نظر سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے۔ یہ صرف دشمنوں کے لیے بند ہے۔ ہمارے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔”
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس سے قبل توانائی کی فراہمی میں عالمی خلل اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’’اپنے آپ سے مذاکرات‘‘ کر رہے ہیں، اور ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا ہے۔