ایران کی دھمکی: امریکی تیل کی تنصیبات کو ‘راکھ کے ڈھیر’ میں بدل دیں گے
یہ شدید ردعمل جمعہ کی رات ایران کے اسٹریٹجک جزیرے خارگ پر امریکی بمباری اور صدر ٹرمپ کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو امریکی فوج ایرانی تیل کے مراکز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
تہران: ایران نے ہفتہ کے روز جزیرہ خارگ پر ہونے والے امریکی حملوں کا انتقام لینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے وابستہ تیل کی تنصیبات اور معاشی ڈھانچے کو ‘راکھ کے پہاڑوں’ میں تبدیل کر دے گا۔
یہ شدید ردعمل جمعہ کی رات ایران کے اسٹریٹجک جزیرے خارگ پر امریکی بمباری اور صدر ٹرمپ کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو امریکی فوج ایرانی تیل کے مراکز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ‘خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر’ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: "اگر ایران کے اثاثوں پر حملہ کیا گیا تو امریکی کمپنیوں سے وابستہ تمام تیل، معاشی اور توانائی کے ڈھانچے کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی آنچ آئی تو پورے خطے میں ان تمام کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں امریکہ کی شراکت داری ہے یا جو امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے انکشاف کیا کہ ان کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے مغربی ایشیا کی تاریخ کی طاقتور ترین بمباری کی ہے، جس میں جزیرہ خارگ پر موجود ہر فوجی ہدف کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اس جزیرے کو ایران کا ‘تاج’ قرار دیتے ہوئے کہا: "ہمارے ہتھیار دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہیں، تاہم میں نے فی الحال جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو مکمل طور پر ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ان کے اس فیصلے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس امریکی حملوں کے خلاف دفاع کی صلاحیت نہیں ہے اور انہوں نے ایرانی قیادت پر زور دیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔
جزیرہ خارگ ایران کے تیل کی برآمدات کا ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور شمالی خلیج فارس میں واقع یہ ملک کا سب سے بڑا آئل ٹرمینل ہے۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو جنگ کے آغاز کے بعد سے 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے عہد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ‘ایک لیٹر تیل’ بھی نہیں گزرنے دیں گے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازعے میں ایران کے کئی ٹھکانے نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔