مشرق وسطیٰ

اسرائیل نو ماہ سے زائد عرصے سے تحویل میں رکھے گئے فلسطینی بچے کی لاش واپس کرے گا

اسرائیل نے نو ماہ سے تحویل میں رکھے گئے 15 سالہ فلسطینی نوجوان کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک فلسطینی تنظیم نے بدھ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید کیے جانے کے بعد لڑکے کی لاش نو ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیلی قبضے میں تھی۔

رام اللہ: اسرائیل نے نو ماہ سے تحویل میں رکھے گئے 15 سالہ فلسطینی نوجوان کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک فلسطینی تنظیم نے بدھ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید کیے جانے کے بعد لڑکے کی لاش نو ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیلی قبضے میں تھی۔


‘فلسطینی شہداء کے لاشوں کی واپسی کے لئے قومی مہم نامی تنظیم کے مطابق، طوباس کے الفارعہ پناہ گزین کیمپ کے رہائشی جاداللہ جہاد جمعہ جاداللہ کی 16 نومبر 2025 کو کیمپ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے جاداللہ کی لاش اسرائیلی حکام کے قبضے میں تھی۔


مہم نے بتایا کہ لاش واپس کئے جانے ی کے مطالبے پر مارچ میں اسرائیل کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ پراسیکیوٹرز کو جواب دینے کے لیے متعدد بار اضافی وقت دیے جانے کے بعد بدھ کو عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اسرائیلی حکام آنے والے دنوں میں لاش حوالے کر دیں گے۔ تاہم اس کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔


تنظیم نے کہا کہ نو ماہ سے زائد عرصے تک لاش اپنے قبضے میں رکھنے کی وجہ سے جداللہ کے اہل خانہ کو آخری الوداع کہنے اور اس کی تدفین کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔


‘فلسطینی شہداء کی لاشوں کی واپسی کے قومی دن’ سے قبل بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل تقریباً 1,700 فلسطینیوں کی لاشیں اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے۔ ان میں سے تقریباً 799 کی شناخت ہو چکی ہے۔


تنظیم کے مطابق، شناخت شدہ میتوں میں 18 سال سے کم عمر کے 81 بچے، اسرائیلی جیلوں میں شہید ہونے والے 99 فلسطینی اور 10 خواتین شامل ہیں۔


اس کے علاوہ تقریباً 256 میتیں ‘نمبروں والی قبروں’ میں رکھی گئی ہیں۔ ان قبروں پر مرنے والوں کے ناموں کے بجائے نمبر درج ہوتے ہیں اور ان میں دفن افراد کی شناخت سے متعلق معلومات اسرائیل کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔


اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 2019 میں فیصلہ دیا تھا کہ حکام فلسطینیوں کی میتوں کو مول بھاؤ کے لئے استعمال کرنے کے مقصد سے اپنے قبضے میں رکھ سکتے ہیں۔ بعد میں اس پالیسی کو ان تمام فلسطینیوں تک وسعت دے دی گئی جن پر اسرائیل نے حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔