میناکشی نٹراجن کی کانگریس قائدین کو تنبیہ، ایس آئی آر میں ووٹوں کی منسوخی پر محتاط رہنے کی ہدایت
تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن نے پارٹی قائدین کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کے دوران انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹوں کے حذف ہونے سے پارٹی کی انتخابی کامیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن نے پارٹی قائدین کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کے دوران انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹوں کے حذف ہونے سے پارٹی کی انتخابی کامیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، میناکشی نٹراجن نے کانگریس قائدین سے کہا کہ پارٹی نے بعض حلقوں میں محض 2 فیصد ووٹوں کے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے میں اگر ایس آئی آر کے عمل کے دوران لاکھوں ووٹ حذف کر دیے جاتے ہیں تو یہ پارٹی کی آئندہ انتخابی کامیابی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اہل ووٹروں کے ناموں کو بلاوجہ انتخابی فہرست سے حذف ہونے سے بچانے کی ذمہ داری پارٹی قائدین اور کارکنوں پر عائد ہوتی ہے۔
"ہم صرف 2 فیصد ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں، اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے،” میناکشی نٹراجن نے مبینہ طور پر پارٹی قائدین سے کہا۔
انہوں نے کانگریس قائدین اور کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آر کے عمل پر گہری نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام غلط طور پر انتخابی فہرست سے حذف نہ ہو۔
میناکشی نٹراجن نے خبردار کیا کہ اگر بڑی تعداد میں ووٹ حذف ہوئے تو اس کا براہِ راست اثر کانگریس کی انتخابی کامیابی پر پڑ سکتا ہے۔ پارٹی قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر کارکنوں کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے ووٹر فہرستوں کی جانچ کریں اور کسی بھی غلط منسوخی کے معاملے کو فوری طور پر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں۔