قومی

حجاب کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، اسکول کے ڈریس کوڈ میں ذاتی پسند سے تبدیلی کی اجازت نہیں

الہ آباد ہائی کورٹ نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کرنے والی ایک مسلم طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی طالب علم اپنی ذاتی پسند یا مذہبی بنیاد پر اسکول کی جانب سے مقرر کردہ یونیفارم میں تبدیلی کا حق نہیں رکھتا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کرنے والی ایک مسلم طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی طالب علم اپنی ذاتی پسند یا مذہبی بنیاد پر اسکول کی جانب سے مقرر کردہ یونیفارم میں تبدیلی کا حق نہیں رکھتا۔

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے 21 اگست کو یہ فیصلہ سنایا۔ یہ درخواست پریاگ راج کے اٹارسوئیا علاقے میں واقع ٹیگور پبلک اسکول کی طالبہ سکینہ رضوی نے اپنی والدہ کے ذریعے دائر کی تھی۔ طالبہ نے دسویں جماعت اسی اسکول سے مکمل کی تھی اور گیارہویں جماعت میں بھی داخلہ لینا چاہتی تھی۔

طالبہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے اسکول کی مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب یا سر پر اسکارف پہننے کی اجازت دی جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک حجاب پہنتی رہی ہے اور اس دوران اسکول انتظامیہ نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ طالبہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ حجاب اس کے اسلامی عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔

تاہم عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ بنچ نے طالبہ کی سابقہ جماعتوں کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان تصاویر میں واحد طالبہ نظر آتی ہے جو سر پر اسکارف پہنے ہوئے ہے، حتیٰ کہ اس کے مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والی دیگر طالبات بھی حجاب پہنے ہوئے نظر نہیں آئیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حجاب کو ایسا لازمی مذہبی عمل قرار نہیں دیا جا سکتا جس کے بغیر اسلامی عقیدہ متاثر ہوتا ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر مختلف ہائی کورٹس کے فیصلوں میں تقریباً یکساں رائے سامنے آئی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ غیر امدادی نجی تعلیمی اداروں کو اپنے طلبہ کے لیے یونیفارم کا ضابطہ مقرر کرنے اور اسے نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، بشرطیکہ یہ ضابطہ منصفانہ، غیر امتیازی اور اسکول میں نظم و ضبط اور مساوات برقرار رکھنے کے مقصد سے ہو۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر ہر طالب علم کو اپنی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر یونیفارم میں تبدیلی کی اجازت دے دی جائے تو یونیفارم کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا اور اسکول کے نظم و ضبط پر ادارے کے بجائے طلبہ کا اختیار قائم ہو جائے گا۔

اسکول انتظامیہ نے بھی عدالت میں درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طالبہ کو یونیفارم میں خصوصی رعایت دینے سے اسکول میں نظم و ضبط اور یکسانیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اتر پردیش حکومت اور سی بی ایس ای نے بھی طالبہ کی درخواست کی مخالفت کی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کرناٹک ہائی کورٹ کی فل بنچ کے ایک سابقہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ حجاب کے معاملے پر بعد میں سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے عائشہ شفا کیس میں مختلف رائے دی تھی، جس کے بعد اس معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے، لیکن طلبہ کو تعلیمی اداروں کی جانب سے مقرر کردہ ڈریس کوڈ کے اصولوں پر بھی عمل کرنا چاہیے۔