اسرائیل کی نئی دھمکی، آیت اللہ خامنہ ای کے بعد آنے والی ایرانی قیادت کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بیان میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی شخص ایران کی قیادت سنبھالے گا وہ اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کی قیادت سنبھالنے والے کسی بھی نئے رہنما کو بھی اسرائیل نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بیان میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی شخص ایران کی قیادت سنبھالے گا وہ اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی نئی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔
یسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا اور امریکا کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کی عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اقدامات کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیل نے ایک زیر زمین بنکر پر فضائی حملہ کیا تھا جہاں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے اہل خانہ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای ایک اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی شریک تھے۔
اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کی اہلیہ، خاندان کے دیگر افراد اور اجلاس میں موجود تمام شخصیات ہلاک ہو گئی تھیں۔
ادھر ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل ابھی شروع ہونا ہے اور ممکنہ امیدواروں میں آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی زیر غور بتایا جا رہا ہے۔