مہنگائی اور روزگار بحران پر جے رام رمیش کی حکومت پر تنقید
مودی حکومت کے اقتدار میں آج مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے
نئی دہلی : کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں پر نریندر مودی حکومت پر تازہ حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ملازمتوں کے ختم ہونے سے عام شہریوں اور متوسط طبقے کی زندگی مسلسل دشوار ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو بے روزگاری اور مہنگائی کے دوہرے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ برسوں سے ملازمت کرنے والے افراد بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "مودی حکومت کے اقتدار میں آج مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے روزگاری ہے تو دوسری طرف برسوں سے کام کرنے والے لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کا بم مسلسل پھٹ رہا ہے۔”
کانگریس رہنما نے پیاز کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکر کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب پیاز بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ کے اندر پیاز کی قیمتوں میں 76 فیصد تک کا اچھال آیا ہے، جبکہ متعدد ریاستوں میں تھوک قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت کا پیاز کا بفر اسٹاک بھی ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، "شکر کے بعد اب پیاز بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ دودھ، تیل، پھل اور راشن سب کچھ عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جارہے ہیں ۔”
گھریلو بجٹ پر مہنگائی کے اثرات پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "مودی حکومت، جو ‘اچھے دن’ لانے کا دعویٰ کرتی تھی، اسے بتانا چاہیے کہ غریب اور متوسط طبقہ کس طرح اپنا گزر بسر کرے۔”
ان کے یہ تبصرے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بڑھتی تشویش کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں پیاز اور دیگر گھریلو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے ماضی میں یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ اس نے صارفین کے تحفظ کے لیے بفر اسٹاک کے انتظام اور قیمتوں میں استحکام لانے کے اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ بھی یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے۔