کویتا نے اسمارٹ میٹروں کی مخالفت کی، مفت بجلی اسکیموں کو خطرہ لاحق ہونے کا انتباہ
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے حکومت کی 200 یونٹ مفت بجلی اسکیم، حجام کی دکانوں کو مفت بجلی اور ایس سی و ایس ٹی برادریوں کو رعایتی بجلی کی سہولت بھی متاثر ہوسکتی ہے
حیدرآباد : تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے پیر کو تلنگانہ میں اسمارٹ میٹر نصب کرنے کی مجوزہ تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی حکومت مرکز کے دباؤ میں کام کر رہی ہے اور عوام کے مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہے۔
بنجارہ ہلز میں واقع ٹی آر ایس کے پارٹی دفتر سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کویتا نے دعویٰ کیا کہ حکومت اسمارٹ میٹر متعارف کرانے کی مرکزی اسکیم میں شامل ہوگئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام سے کارپوریٹ مفادات کو فائدہ ہوگا، جبکہ صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ نئے میٹروں کے ذریعے پری پیڈ بجلی کا نظام نافذ کیا جاسکتا ہے، جس کے تحت پری پیڈ بیلنس ختم ہوتے ہی بجلی کی سپلائی منقطع ہوجائے گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے حکومت کی 200 یونٹ مفت بجلی اسکیم، حجام کی دکانوں کو مفت بجلی اور ایس سی و ایس ٹی برادریوں کو رعایتی بجلی کی سہولت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اسمارٹ میٹروں کی تنصیب کی مخالفت کرے گی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس تجویز کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے موجودہ میٹرنگ نظام کے ذریعے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور بجلی کے شعبے میں کام کرنے والے کاریگروں اور کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کو ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے جو صارفین پر مالی بوجھ بڑھا سکتی ہیں، عوام کو فائدہ پہنچانے والے اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے۔