موسیٰ رام باغ سے عنبرپیٹ سفر ہوگا آسان، موسیٰ ندی پر نیا پل افتتاح کے لیے تیار
تقریباً 52 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس نئے پل کی لمبائی 220 میٹر ہے۔ حکام کی جانب سے پل کے باقی ماندہ کام تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور اسے رواں ماہ کے آخر تک عوام کے لیے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے عوام، خصوصاً موسیٰ رام باغ اور عنبرپیٹ کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے گاڑی سواروں کے لیے بڑی راحت کی خبر ہے۔ موسیٰ ندی پر موسیٰ رام باغ–عنبرپیٹ راستے میں تعمیر کیا جانے والا نیا پل تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔
تقریباً 52 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس نئے پل کی لمبائی 220 میٹر ہے۔ حکام کی جانب سے پل کے باقی ماندہ کام تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور اسے رواں ماہ کے آخر تک عوام کے لیے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
پرانے پل کی خستہ حالی سے مشکلات
موسیٰ رام باغ اور عنبرپیٹ کے درمیان پہلے سے موجود پرانا پل کافی خستہ حال ہوچکا ہے۔ بارش کے موسم میں اس راستے سے گزرنے والے گاڑی سواروں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
خصوصاً جب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو موسیٰ ندی میں پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں سیلابی پانی پرانے پل کے اوپر سے گزرنے لگتا تھا، جس کے باعث اس اہم راستے پر آمد و رفت متاثر ہوتی تھی۔
زیادہ اونچائی پر تعمیر کیا گیا نیا پل
اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے نئے پل کو پرانے پل کے مقابلے میں زیادہ اونچائی پر تعمیر کیا گیا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ موسلا دھار بارش، موسیٰ ندی میں پانی کی سطح میں اضافے یا عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے دروازے کھولے جانے کے دوران نئے پل پر سیلابی پانی کے اثرات کم ہوں گے اور آمد و رفت زیادہ محفوظ طریقے سے جاری رہ سکے گی۔
ٹریفک کے مسائل میں کمی کی امید
نئے پل کے عوام کے لیے کھولے جانے کے بعد موسیٰ رام باغ، عنبرپیٹ اور آس پاس کے علاقوں کے درمیان آمد و رفت مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔
روزانہ اس راستے سے گزرنے والے ہزاروں گاڑی سواروں کو اس منصوبے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ نئے پل سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ سفر کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں میں بھی کمی آنے کی امید ہے۔
حیدرآباد میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں فلائی اوور، انڈر پاس اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ موسیٰ ندی پر تعمیر کیا جانے والا یہ نیا پل بھی شہر کے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شامل ہے۔
یہ منصوبہ صرف ٹریفک کی سہولت کے اعتبار سے ہی اہم نہیں بلکہ بارش اور سیلاب کے دوران عوام کی آمد و رفت برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
52 کروڑ روپے کی لاگت اور 220 میٹر لمبائی والا یہ نیا پل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور رواں ماہ کے آخر میں اس کے افتتاح کی تیاریاں جاری ہیں۔ پل کے عوام کے لیے کھلنے کے بعد موسیٰ رام باغ–عنبرپیٹ راستے پر سفر پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور محفوظ ہونے کی توقع ہے۔