کرناٹک

کناڈا میں کرناٹک کے آئی ٹی پروفیشنل کا قتل، ملزمان نے دن دہاڑے شاپنگ سینٹر کی پارکنگ میں ماری گولی

کرناٹک میں اس کے اہل خانہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس کا جسد خاکی آخری رسومات کے لیے حکومتِ ہند سے وطن واپس لانے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ اس کے والد نے کہا کہ وہ اپریل میں ہندستان آنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ کمار کے والدین نے اس سے گھر واپس آنے کی گزارش کی تھی۔

بنگلورو: کناڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک شاپنگ سینٹر کی پارکنگ میں کرناٹک کے 37 سالہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پیشہ ور کو دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ ایک "ٹارگٹڈ حملہ” تھا۔

متعلقہ خبریں
نیوز چینل کا سینکڑوں ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ
حضرت شیخ شاہ افضل الدین جنیدی سراج باباامیرکبیرالسادۃ الجنیدیہ الحسینیہ(فی الھند) مقرر
ہبالی فساد کیس واپس لینے کی مدافعت: وزیر داخلہ کرناٹک
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
کرناٹک قانون ساز کونسل میں متنازعہ مندر ٹیکس بل کو شکست


متاثرہ شخص کی شناخت چندن کمار راجہ نندکمار کے طور پر ہوئی ہے، جو بنگلورو دیہی ضلع کے نیل منگلا کے قریب تھیا ماگونڈلو گاؤں کا رہنے والا تھا اور اس وقت گریٹر ٹورنٹو ایریا کے برامپٹن میں مقیم تھا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کے روز پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ ہفتہ کی دوپہر تقریباً 3:31 بجے ریکسڈیل بلیوارڈ اور ہائی وے 27 کے قریب ووڈبائن شاپنگ سینٹر پارکنگ ایریا میں اسے زخمی حالت میں پایا گیا۔


فائرنگ کی اطلاع ملنے پر ٹورنٹو پولیس سروس کے افسران موقع پر پہنچے اور کمار کو شدید زخمی حالت میں پایا۔ اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ اس واردات کو انجام دینے والے مشتبہ افراد ایک گاڑی میں موقع سے فرار ہو گئے۔ ابھی تک اس معاملے میں کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ حکام نے اس واقعے کو ایک ٹارگٹڈ فائرنگ قرار دیا ہے، تاہم مقصد ابھی واضح نہیں ہے۔


کمار گزشتہ چھ برس سے کناڈا میں ایک نجی کمپنی میں آئی ٹی پیشہ ور کے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہ مقامی کمیونٹی گروپس میں بھی سرگرم تھا۔


کرناٹک میں اس کے اہل خانہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس کا جسد خاکی آخری رسومات کے لیے حکومتِ ہند سے وطن واپس لانے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ اس کے والد نے کہا کہ وہ اپریل میں ہندستان آنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ کمار کے والدین نے اس سے گھر واپس آنے کی گزارش کی تھی۔


ٹورنٹو میں اس سال فائرنگ کے واقعات میں یہ تیسرا قتل ہے۔ اس واقعے کے بعد عوامی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے جہاں حملے کے وقت خریدار موجود تھے۔ پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے اور گواہوں اور شواہد کی تلاش کر رہی ہے۔