کویتا کی اے آئی ایم آئی ایم پر سخت تنقید، اویسی برادران پر ہمیشہ اقتدار کے ساتھ کھڑے رہنے کا الزام
کے کویتا نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ بی آر ایس حکومت کے دور میں بھی پورا خرچ نہیں ہوا تھا اور کانگریس حکومت کے آنے کے بعد بھی صرف اعلانات بڑھے ہیں،
کے کویتا نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ بی آر ایس حکومت کے دور میں بھی پورا خرچ نہیں ہوا تھا اور کانگریس حکومت کے آنے کے بعد بھی صرف اعلانات بڑھے ہیں، زمینی سطح پر خرچ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ مائنارٹی فنانس کارپوریشن تقریباً تباہ ہو چکی ہے، مگر دونوں حکومتوں کا رویہ ایک جیسا رہا۔
کویتا نے کہا کہ جو بھی اقتدار میں ہوتا ہے، اویسی برادران اسی کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تلنگانہ کی مخالفت کی گئی، لیکن ریاست بننے کے بعد کے سی آر حکومت کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے۔ اسی طرح 2023 کے انتخابات سے قبل ریونت ریڈی پر سخت الزامات لگائے گئے، لیکن حکومت بننے کے بعد انہی کے پاس جایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی اویسی برادران کی بات وزیر اعلیٰ سنتے ہیں تو پھر رمضان سے قبل اماموں اور موذنوں کے بقایاجات کیوں ادا نہیں ہوئے؟ دو سال سے کانگریس حکومت ہے، لیکن نہ بقایا جات ادا ہوئے اور نہ ہی امام و موذن کی تنخواہیں 12 ہزار روپے کرنے کا وعدہ پورا ہوا۔
سابقہ ایم ایل سی نے اولڈ سٹی کے حالات پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹی میں آج بھی گندے پانی کا مسئلہ، سڑکوں کی خراب حالت، اسکولوں اور بس سہولتوں کی کمی جیسے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ دس سال بی آر ایس اور دو سال کانگریس کے ساتھ رہنے کے باوجود اگر ترقی نظر نہیں آتی تو پھر عوام سے ووٹ کس بنیاد پر مانگے جا رہے ہیں؟
کویتا نے مزید کہا کہ اگر اقتدار میں شراکت داری ہے تو پھر اپنی کمیونٹی اور اپنے حلقوں کے لیے عملی کام بھی ہونا چاہیے، صرف بڑے بڑے دعوے کافی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان کے موقع پر مساجد اور درگاہوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے، صفائی کے لیے خصوصی بجٹ دیا جائے اور اقلیتی بہبود کے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اب سوال پوچھ رہے ہیں اور صرف اقتدار کے ساتھ کھڑے رہنے سے بات نہیں بنے گی۔