کوناسیما: او این جی سی ویل میں گیس لیک کے بعد بھیانک آگ، مقامی آبادی میں خوف و ہراس
یہ کنواں آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) کا ہے، جسے پیداوار کے لیے ڈیپ انڈسٹریز لمیٹڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
کوناسیما: آندھرا پردیش کے کوناسیما ضلع میں واقع او این جی سی موری-5 کنویں میں گیس لیک کے باعث 5 جنوری 2026 کو اچانک ایک شدید آگ بھڑک اٹھی، جس سے قریبی دیہات کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ واقعہ مالکی پورم منڈل کے ارسومندا گاؤں میں پیش آیا، جو رازول اسمبلی حلقہ کے تحت آتا ہے۔
یہ کنواں آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) کا ہے، جسے پیداوار کے لیے ڈیپ انڈسٹریز لمیٹڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، موری-5 کنویں کے مقام پر گیس پائپ لائن میں اچانک رساؤ ہوا، جس کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کے شعلے دور سے دکھائی دے رہے تھے، جس کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں خوف کی فضا قائم ہو گئی اور لوگ احتیاطاً محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے لگے۔
اس واقعے کی اہم تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ارسومندا گاؤں، مالکی پورم منڈل، کوناسیما ضلع میں پیش آیا، کنواں موری-5 گیس ویل ہے، تاریخ 5 جنوری 2026 ہے اور اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
آگ لگنے کے بعد مقامی افراد میں وقتی طور پر افراتفری دیکھی گئی، تاہم انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عوام کو کنویں کے قریب جانے سے روک دیا اور محفوظ فاصلے پر رکھا۔ اس دوران او این جی سی کے راجمندری دفتر سے اعلیٰ عہدیدار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
عہدیداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ آگ پر قابو پانے، گیس لیک روکنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ حفاظتی ٹیمیں مسلسل علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹالا جا سکے۔
او این جی سی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں اب تک کسی کی موت یا چوٹ کی اطلاع نہیں ملی، جو کہ ایک بڑی راحت کی بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیس لیک کی اصل وجہ جاننے کے لیے تکنیکی جانچ بھی کی جائے گی اور حفاظتی نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ رہائشی علاقوں کے قریب واقع توانائی کے منصوبوں میں حفاظتی انتظامات انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس بار جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس حادثے نے مقامی لوگوں میں تحفظ اور ہنگامی تیاریوں سے متعلق خدشات ضرور پیدا کر دیے ہیں۔