تلنگانہ

تلنگانہ۔اے پی کے آبی مسائل خوش اسلوبی سے حل کئے جائیں:چندرابابو

انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر گوداوری۔پینا جیسے دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیا جائے تو اس سے بڑے پیمانہ پر فائدہ ہوگا

حیدرآباد : اے پی کے وزیراعلی چندرابابو نائیڈو نے کہا ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی تقسیم کے باوجود دونوں ریاستوں کو ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہیے اور نفرتوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
پارٹی کو جانشینوں کے حوالے کرنے کی ذمہ داری لیں۔ کیڈر کو چیف منسٹر نائیڈو کا مشورہ
حیدرآباد کےمسلم معاشرے میں ٹال مٹول، ترقی کی رفتار سست کرنے والا ایک خاموش مسئلہ
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا
ہندوستان کی پہلی خاتون میوزک ٹیکنیشن اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ساجدہ خان کو وندھیا ندھیا گورو ایوارڈ

تلنگانہ حکومت کی جانب سے پولاورم نلہ ملا ساگر اجکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرنے کے پس منظر میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام تلگو عوام کو ترقی کی راہ پر مل کر چلنا چاہیے۔

 انہوں ٰ نے یاد دلایا کہ جب ریاست متحدہ تھی تب کئی اہم پراجکٹس کا آغاز کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد جب تلنگانہ میں کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا گیا تو آندھرا پردیش نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا

۔چندرابابو نائیڈو نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ تلنگانہ دریائے گوداوری کا پانی استعمال کر رہا ہے کیونکہ گوداوری میں پانی کی وافر مقدار موجود ہے۔

انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر گوداوری۔پینا جیسے دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیا جائے تو اس سے بڑے پیمانہ پر فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان پانی کے مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ تلگو عوام کی مجموعی ترقی متاثر نہ ہو