کریملن کی امریکہ میں منجمد اثاثے غزہ اور یوکرین کے لئے استعمال کرنے کی تجویز
پیسکوف نے میڈیا کو بتایا "میں درست رقم نہیں بتاؤں گا لیکن یہ 5 ارب ڈالر سے کچھ کم ہے۔‘‘
ماسکو: روس نے اب تک امریکہ میں منجمد اپنے اثاثوں کی درست مالیت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم یہ رقم 5 ارب امریکی ڈالر سے کچھ کم ہے۔ یہ بات کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک بریفنگ کے دوران بتائی۔
پیسکوف نے میڈیا کو بتایا "میں درست رقم نہیں بتاؤں گا لیکن یہ 5 ارب ڈالر سے کچھ کم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ماسکو نے امریکہ میں منجمد اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر حال ہی میں قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ذریعے انسانی امداد کے لیے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں فلسطینیوں کی امداد کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقوم بورڈ کے ذریعے فلسطین میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اس معاملے پر ایک دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی بات چیت ہوئی تھی۔
اگرچہ دنیا بھر میں روس کے منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 300 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جن میں سے اکثریت یورپ میں موجود ہے (تقریباً 250 ارب ڈالر، جو بنیادی طور پر بیلجیم کے یوروکلیئر میں رکھے گئے ہیں)، تاہم امریکہ میں منجمد تقریباً 5 ارب ڈالر کے اثاثے زیادہ تر روسی مرکزی بینک سے متعلق ہیں۔
روسی حکام کے مطابق صدر پوتن نے 22 جنوری کو باضابطہ طور پر یہ تجویز پیش کی کہ امریکہ میں رکھے گئے اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر کو ریلیز کرکے غزہ اور یوکرین جیسے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بورڈ آف پیس کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے، بشرطیکہ واشنگٹن ان رقوم کو بحال کرنے پر رضامند ہو۔
ماسکو کے مطابق باقی ماندہ اثاثے جو تقریباً 4 ارب ڈالر بنتے ہیں، یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں، تاہم یہ عمل حتمی امن معاہدے پر دستخط کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
تاہم اس تجویز کو یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے مسترد کرتے ہوئے اسے "لغو” قرار دیا اور اس مؤقف کو دہرایا کہ روس کے تمام منجمد اثاثے صرف یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال ہونے چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ روس جارح ملک ہے، اس لیے جنگ سے ہونے والے تمام نقصانات کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
یورپ میں بھی روسی منجمد اثاثوں کے استعمال کا معاملہ شدید تنازع کا شکار بنا ہوا ہے۔ اگرچہ کئی یورپی یونین کے رکن ممالک یوکرین کی مدد کے لیے ان رقوم کے استعمال کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم بعض ممالک نے کریملن کے اثاثے ضبط کرنے سے انکار کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے ماسکو قانونی اور مالی سطح پر سخت جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔
ان خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا ہے جب کریملن نے بارہا بروسلز کو خبردار کیا ہے کہ اس کے اثاثوں کی کسی بھی قسم کی "چوری” کے جواب میں باہمی اقتصادی اقدامات کیے جائیں گے۔