شاعری میں مقصدیت کے فقدان سے اردو ادب کو نقصان: ٹولی چوکی میں تہنیتی تقریب و موضوعاتی مشاعرہ
تقریب کی صدارت معروف سماجی رہنما ایم اے نعیم، چیئرمین تنظیم اصلاحِ معاشرہ و ازالۂ منکرات نے کی جبکہ کہنہ مشق شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر روف خیر صدرِ مشاعرہ تھے۔ اس موقع پر تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے کارنامۂ حیات ایوارڈ حاصل کرنے والے ممتاز شعراء ظفر فاروقی اور واحد نظام آبادی کو بزمِ ادب حیدرآباد کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔
حیدرآباد: شاعری میں مقصدیت کے فقدان سے اردو ادب کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے بزمِ ادب حیدرآباد کے زیرِ اہتمام منعقدہ تہنیتی تقریب اور موضوعاتی مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ادبی تقریب خضرا کالونی، ٹولی چوکی، حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔
تقریب کی صدارت معروف سماجی رہنما ایم اے نعیم، چیئرمین تنظیم اصلاحِ معاشرہ و ازالۂ منکرات نے کی جبکہ کہنہ مشق شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر روف خیر صدرِ مشاعرہ تھے۔ اس موقع پر تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے کارنامۂ حیات ایوارڈ حاصل کرنے والے ممتاز شعراء ظفر فاروقی اور واحد نظام آبادی کو بزمِ ادب حیدرآباد کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔
معروف شاعر و صحافی سعداللہ خان سبیل نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔ ایم اے نعیم نے تقریب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم اصلاحِ معاشرہ کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی علمی ذخیرے کا بڑا حصہ اردو زبان میں موجود ہے، اسی مقصد کے تحت دو سال قبل بزمِ ادب کا قیام عمل میں لایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نثر کے مقابلے میں نظم کے ذریعے اصلاح کا کام زیادہ مؤثر طریقے سے کیا جا سکتا ہے، اسی لیے بزمِ ادب ہر ماہ موضوعاتی مشاعرے منعقد کرتی ہے اور سال میں ایک بار بڑے پیمانے پر شاندار مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے۔ تنظیم کا ترجمان ماہنامہ "اصلاحِ معاشرہ و ازالۂ منکرات” بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔
مولانا ممشاد علی صدیقی، سرپرستِ تنظیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اصلاحِ معاشرہ انبیاء کرام کی سنت ہے اور موجودہ دور میں اس کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کلمہ گو افراد کی کمی نہیں، لیکن دین پر عمل کرنے والوں کا فقدان ہے۔ نمازوں کی پابندی، سلام کو عام کرنا، گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنا اور خواتین میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا تنظیم کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تنظیم نے مختلف علماء کے تعاون سے چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب "اصلاحِ معاشرہ و ازالۂ منکرات” بھی مرتب کی ہے۔
تقریب کا آغاز قاری محمد عثمان کی قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ مشاعرہ میں ڈاکٹر روف خیر، ظفر فاروقی، واحد نظام آبادی، سعداللہ خان سبیل، شاہ نواز ہاشمی اور رفیق جگر نے اپنا منتخب کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔