آندھراپردیش

سنکرانتی پر گوداوری اضلاع میں دیسی مرغ کی دھوم، قیمتیں 2500 روپے تک پہنچ گئیں

گوداوری اضلاع میں سنکرانتی کا تہوار اپنی انوکھی روایات کے لئے مشہور ہے۔ یہاں تہوار پر آنے والے مہمانوں اور خاص طور پر نئے دامادوں کی خاطر تواضع دیسی مرغ کے مختلف پکوانوں سے کرنا ایک قدیم روایت ہے۔ بیرون ملک اور دور دراز شہروں سے گھروں کو لوٹنے والے رشتہ دار پہلے ہی اپنے گھر والوں سے دیسی مرغ کے پکوان تیار رکھنے کی فرمائش کر رہے ہیں۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے مشرقی ومغربی گوداوری اضلاع میں سنکرانتی کے تہوار کی تیاریاں عروج پر ہیں جہاں روایتی مرغوں کی لڑائی کے ساتھ ساتھ دیسی مرغ کے سالن کی طلب میں بھی زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مانگ بڑھنے اور پیداوار میں کمی کی وجہ سے دیسی مرغ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ایک مرغ کی قیمت 2000 سے 2500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
آندھرائی افراد کی حیدرآباد واپسی، ٹول پلازہ کے قریب ٹریفک جام کی صورتحال
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی


گوداوری اضلاع میں سنکرانتی کا تہوار اپنی انوکھی روایات کے لئے مشہور ہے۔ یہاں تہوار پر آنے والے مہمانوں اور خاص طور پر نئے دامادوں کی خاطر تواضع دیسی مرغ کے مختلف پکوانوں سے کرنا ایک قدیم روایت ہے۔ بیرون ملک اور دور دراز شہروں سے گھروں کو لوٹنے والے رشتہ دار پہلے ہی اپنے گھر والوں سے دیسی مرغ کے پکوان تیار رکھنے کی فرمائش کر رہے ہیں۔


مقامی ذرائع کے مطابق ماضی میں وائرس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مرغیوں کی موت اور دیسی مرغوں کی پرورش میں کمی اس قلت کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک مرغ خریدنے کے لئے10 سے 20 لوگ قطار میں ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود لوگ اپنی روایات اور مہمان نوازی کو برقرار رکھنے بھاری قیمت ادا کر کے بھی دیسی مرغ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عام دنوں میں یہاں دیسی مرغ کی قیمت 1000 سے 1200 روپے کے درمیان ہوتی ہے لیکن اب یہ قیمتیں اچانک دوگنی ہو گئی ہیں۔ اس اضافہ کی سب سے بڑی وجہ پیداوار میں ہونے والی بھاری کمی بتائی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل مختلف علاقوں میں وائرل بیماریوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مرغیاں ہلاک ہو گئی تھیں جس سے تاجروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نقصان کے خوف سے کئی تاجروں نے مرغیوں کی پرورش کم کر دی ہے۔


دوسری جانب، دیہی علاقوں میں بھی اب لوگ دیسی مرغیوں کو پالنے میں پہلے جیسی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں جس کی وجہ سے بازار میں سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بازار میں دیسی مرغ ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ جہاں کہیں مرغ دستیاب ہیں وہاں خریداروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ تاجروں نے بھی اس قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں اچانک اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سنکرانتی کے تہوار پر لوگ قیمت کی پرواہ کئے بغیر خریداری کریں گے۔