’’دو سال بعد بھی وعدے ادھورے‘‘، نامپلی کے سرکاری دواخانوں کی بدحالی تشویشناک، ماجد حسین کا حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ
تلنگانہ اسمبلی میں آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے تعلق رکھنے والے نامپلی کے رکنِ اسمبلی ماجد حسین نے زیرو آور کے دوران نامپلی حلقہ میں موجود بڑے سرکاری دواخانوں اور ایک ووکیشنل جونیئر کالج کی خستہ حالی پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔
تلنگانہ اسمبلی میں آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے تعلق رکھنے والے نامپلی کے رکنِ اسمبلی ماجد حسین نے زیرو آور کے دوران نامپلی حلقہ میں موجود بڑے سرکاری دواخانوں اور ایک ووکیشنل جونیئر کالج کی خستہ حالی پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع کے لیے شکر گزار ہیں اور ایوان کے ذریعے حکومت کے سامنے نامپلی حلقہ کے سنگین مسائل رکھنا چاہتے ہیں۔
ماجد حسین نے کہا کہ نامپلی حلقہ میں ریاست تلنگانہ کے چند بڑے اور اہم سرکاری دواخانے واقع ہیں، جن میں ایم این جے کینسر ہاسپٹل، نیلوفر ہاسپٹل، سروجنی دیوی ہاسپٹل اور نامپلی ایریا ہاسپٹل شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نامپلی ایریا ہاسپٹل میں روزانہ تقریباً 500 سے زائد آؤٹ پیشنٹس علاج کے لیے آتے ہیں، جس کے باعث او پی ڈی مکمل طور پر کنجسٹڈ ہو چکی ہے اور غریب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان تمام سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کے کئی عہدے طویل عرصے سے خالی ہیں، جس کے سبب موجودہ ڈاکٹروں پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر مریضوں کی دیکھ بھال ایک محدود اسٹاف کے لیے ممکن نہیں رہی، جس کا براہِ راست نقصان غریب اور نادار مریضوں کو ہو رہا ہے۔
ماجد حسین نے خصوصی طور پر کہا کہ نامپلی ایریا ہاسپٹل میں آئی سی یو کی سہولت نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی سنگین مریض یا حاملہ خاتون وہاں پہنچتی ہے تو انہیں فوری طور پر عثمانیہ ہاسپٹل منتقل کرنا پڑتا ہے، جو غریب خواتین کے لیے شدید پریشانی اور خطرے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان ہاسپٹلز میں فوری طور پر آئی سی یو سہولت فراہم کی جائے اور ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے تاکہ مریضوں پر پڑنے والا دباؤ کم ہو سکے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل بھی زیرو آور کے دوران انہوں نے نیلوفر چلڈرن ہاسپٹل میں ایم آر آئی مشین کی ضرورت کا مسئلہ اٹھایا تھا اور یقین دہانی کروائی گئی تھی، مگر دو سال گزرنے کے باوجود آج تک ایم آر آئی مشین فراہم نہیں کی گئی۔ نتیجتاً، چھوٹے بچوں کو ایم این جے کینسر ہاسپٹل جا کر ایم آر آئی کروانا پڑ رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیلوفر چلڈرن ہاسپٹل میں فوری طور پر ایم آر آئی مشین نصب کی جائے۔
اس کے علاوہ، ماجد حسین نے نامپلی حلقہ کے بازار گارڈ علاقے میں واقع ایک سرکاری ووکیشنل جونیئر کالج کی خستہ حالت کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کالج محکمہ تعلیم کے تحت آتا ہے اور بارشوں کے بعد اس کی ابتر حالت پر میڈیا میں متعدد رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ کالج کی عمارت انتہائی خستہ حال ہے اور وہاں زیر تعلیم طلبہ کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے، مگر اس کے باوجود کسی ذمہ دار افسر نے اب تک سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر الزام لگانا نہیں چاہتے، بلکہ چاہتے ہیں کہ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فوری حل نکالا جائے۔
ماجد حسین نے مطالبہ کیا کہ انچارج وزیر اور وزیر صحت کی زیر صدارت ان تمام دواخانوں کے لیے فوری ریویو میٹنگ بلائی جائے اور ووکیشنل جونیئر کالج کے لیے زیر التواء فائل کو جلد منظوری دے کر تعمیراتی کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کالج معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے واحد سہارا ہے، جو مہنگے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
ماجد حسین کی تقریر کے بعد، وزیر محمد اظہرالدین نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماجد حسین کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کو نوٹ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔