گھریلو ایل پی جی سپلائی میں بڑی تبدیلی، جزوی سلنڈر فراہم کیے جائیں گے
14.2 کلوگرام گیس پر مشتمل سلنڈر کی جگہ اب 8 سے 10 کلوگرام ایل پی جی فراہم کی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ گھروں تک کم از کم مقدار میں گیس پہنچائی جا سکے۔
عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور ایندھن کی سپلائی میں رکاوٹوں کے پیش نظر حکومت نے گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی تقسیم کے نظام میں بڑی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صارفین کو اب مکمل کے بجائے جزوی طور پر بھرے ہوئے سلنڈر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 23 مارچ 2026 کو سامنے آنے والی اس پیش رفت کے تحت روایتی طور پر 14.2 کلوگرام گیس پر مشتمل سلنڈر کی جگہ اب 8 سے 10 کلوگرام ایل پی جی فراہم کی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ گھروں تک کم از کم مقدار میں گیس پہنچائی جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ گیس کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر لیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی تنازعات کے باعث سپلائی چین میں خلل ہے۔ اس اقدام کا مقصد مکمل بندش کے بجائے محدود وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں تقسیم کرنا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ صارفین سے مکمل سلنڈر کی قیمت وصول نہیں کی جائے گی بلکہ انہیں صرف اتنی ہی رقم ادا کرنی ہوگی جتنی مقدار میں گیس فراہم کی جائے گی۔ اس تناسبی قیمت کے نظام سے عوام کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
اگرچہ اس فیصلے کو عارضی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کم گیس کی فراہمی اور بار بار ریفل کی ضرورت کے حوالے سے شہریوں میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی قلیل مدتی طور پر طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن طویل مدتی حل عالمی توانائی مارکیٹ کے استحکام پر منحصر ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے نفاذ کے وقت اور اس کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔