امریکا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ہزاروں ہندوستانی شہری بھی بے دخلی کے خطرے سے دوچار
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بے دخلی کے عمل کے لیے فوجی طیاروں کے استعمال کی تیاری کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست غیر قانونی تارکینِ وطن، خصوصاً بھارتی شہریوں، کے لیے قانونی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات انتہائی محدود ہو سکتے ہیں۔ بہت سے افراد کو نہ تو مؤثر اپیل کا موقع مل رہا ہے اور نہ ہی مناسب قانونی نمائندگی میسر آ رہی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی تیز کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مناسب قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے تقریباً 18 ہزار بھارتی شہری بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں امریکا سے بے دخل کیے جانے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بے دخلی کے عمل کے لیے فوجی طیاروں کے استعمال کی تیاری کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست غیر قانونی تارکینِ وطن، خصوصاً بھارتی شہریوں، کے لیے قانونی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات انتہائی محدود ہو سکتے ہیں۔ بہت سے افراد کو نہ تو مؤثر اپیل کا موقع مل رہا ہے اور نہ ہی مناسب قانونی نمائندگی میسر آ رہی ہے۔
دوسری جانب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی ٹیمیں ملک بھر میں چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیویارک، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور نیوجرسی سمیت کئی ریاستوں میں جاری اس مہم نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ مختلف رپورٹس میں حراستی مراکز (Detention Centers) میں قید افراد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور غیر انسانی سلوک کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بے دخل کیے جانے والے تارکینِ وطن کو رکھنے کے لیے ایل پاسو اور کیلیفورنیا میں دو بڑے گودام خریدے ہیں، جن پر تقریباً 16,500 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے گئے۔ ان عمارتوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کرکے آئی سی ای کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں تقریباً 12 ہزار افراد کو رکھا گیا ہے۔
امیگریشن وکلا کا کہنا ہے کہ ماضی میں گرفتار افراد کو اپنے کیس کی سماعت اور دفاع کا موقع دیا جاتا تھا، مگر اب آئی سی ای کی کارروائیوں کے بعد بہت سے افراد کو براہِ راست حراستی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے امیگریشن وکیل گریگ سِسکنڈ نے کہا:”میں گزشتہ 30 برس سے امیگریشن کے مقدمات لڑ رہا ہوں۔ پہلے ہر غیر قانونی تارکِ وطن کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور قانونی دفاع کا موقع ملتا تھا، لیکن اب آئی سی ای کی کارروائیوں کے بعد لوگوں کو سیدھا حراستی مراکز بھیج دیا جاتا ہے۔”
سال 2025 کے دوران امریکا نے 3,567 بھارتی شہریوں کو بے دخل کیا۔جون 2026 تک مزید 1,076 بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ 5 فروری 2025 کو پہلی مرتبہ امریکا نے 104 بھارتی شہریوں کو فوجی طیارے کے ذریعے امرتسر روانہ کیا تھا۔
امریکا میں مقیم ایک بھارتی تارکِ وطن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: "جیسے ہی دروازے کی گھنٹی بجتی ہے، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ پہلا خیال یہی آتا ہے کہ کہیں آئی سی ای کے اہلکار تو نہیں آ گئے۔ اگر مجھے اور میرے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا تو ہمارے بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟”
انہوں نے مزید کہا: "پہلے واٹس ایپ گروپس میں نوکریوں اور رہائش کے بارے میں بات ہوتی تھی، لیکن اب صرف آئی سی ای کے چھاپوں، چیک پوسٹس اور ان علاقوں کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے جہاں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم گزشتہ ایک سال سے مسلسل خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔”
ایک اور متاثرہ شخص نے بتایا:”گزشتہ ماہ میرے پڑوسی اور اس کے بھائیوں کو آئی سی ای نے گرفتار کر لیا۔ انہیں ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ وہاں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق معمولی باتوں پر بھی قیدیوں کے ساتھ سختی اور تشدد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔”