تلنگانہ

خواتین سے منگل سوتر چھیننے والا ملک میں پیدا نہیں ہوا

صدر اے آئی سی سی ملکارجن گھر گے نے کہا ہے کہ خواتین کے گلے سے منگل سوتر چھیننے والا ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا ہے۔

حیدرآباد: صدر اے آئی سی سی ملکارجن گھر گے نے کہا ہے کہ خواتین کے گلے سے منگل سوتر چھیننے والا ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ نریندر مودی جھوٹوں کے سردار ہیں۔

متعلقہ خبریں
کھرگے پر نازیبا تبصرہ، کارروائی کی جائے گی:کانگریس
کانگریس کی گھر گھر گارنٹی پہل کی شروعات
ملک میں روس جیسی آمرانہ صورتحال: کجریوال
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف کانگریس ہائیکورٹ سے رجوع
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)

عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے مختلف مذاہب کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دراصل تیسرے مرحلہ کی رائے دہی کے بعد مودی اور امیت شاہ خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ وہ الیکشن سے ہٹ کر بات کررہے ہیں وہ پارٹی منشور پر بات نہیں کررہے ہیں۔

ترقی پر ووٹ مانگنے کیلئے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہر بات پر کانگریس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسال پہلے کہتے تھے کہ کانگریس سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اب وہ کانگریس سے ڈرچکے ہیں۔ مٹن، چکن، بیف، کبھی مسلم لیگ، کبھی منگل سوتر کی بات کررہے ہیں ”ایم“ سے جتنی بھی باتیں نکلتی ہیں یہ باتیں مودی کو بہت پسند ہیں۔

کالادھن اور2کروڑ نوکریوں کے بارے میں کچھ نہیں بولتے۔ مرکز میں کانگریس اتحاد کی سرکار آئیگی تو گیارنٹی اسکیمات کو روبہ عمل لایا جائے گا۔خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں 50فیصد تحفظات دئیے جائیں گے۔ منریگا اسکیم کے تحت ہر مزدور کو400 روپے یومیہ اجرت دی جائے گی۔

مودی کی سرکار صرف دلتمندوں کی سرکار ہے۔ غریبوں کیلئے مودی نے کچھ نہیں کیا۔ کانگریس برسر اقتدار آنے پر ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کراے گی۔ کیونکہ مودی سرکار نے 2021 میں مردم شماری نہیں کروائی۔ مودی، خواتین کے گلے سے منگل سوتر چھیننے کی بات کررہے ہیں۔

کھرگے نے کہا کہ اس ملک میں مودی نے اپنے دوستوں کو کالادھن کا فائدہ پہنچایا۔ وہ، راہول گاندھی سے کہتے ہیں کہ اڈانی اور امبانی سے متعلق بات کرنا بند کردیں۔ مودی، ٹیمپو سے رقم کی منتقلی کی بات کررہے ہیں تو پھر سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس کیا کررہا ہے؟۔ ٹیمپو میں پیسہ جارہا ہے تو کیا یہ لوگ سورہے ہیں؟ وزیر اعظم کو اس طرح کی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔

گجرات میں چنددن قبل مودی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس آجائیگی تو ہندووں کی جائیدادوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردے گی۔ کھر گے نے کہا کہ دیش میں قانون ہے۔ اندرا گاندھی نے لینڈ ریفارمس قانون لاکر پالیسی کے تحت زمینداروں کی اراضیات کو غریبوں میں تقسیم کیا تھا۔

معمولی باتیں کرکے عوام کو مشتعل کرنا بی جے پی کی پرانی عادت ہے۔ تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال پر مرکز نے کوئی مدد نہیں کی۔ تلنگانہ میں 10سال کے دوران ایک بھی پروجیکٹ کیلئے فنڈ جاری نہیں کیا۔منگل سوتر چھیننے والا ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا ہے۔ مودی جیسا آدمی ہی ایسا کرسکتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی بات کرکے مودی سماج کو تقسیم کرنا اوردنگا فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس میں کمزور طبقات کی نمائندگی صرف21فیصد ہے۔ پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر ایک بھی ایس سی، ایس ٹی طبقہ کا عہدیدار نہیں ہے۔

کانگریس پارٹی کمزور پسماندہ طبقات کے 50فیصد تحفظات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ کھر گے آج حیدرآباد میں ہوٹل تاج کرشنا میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے حیدرآباد کو نظر انداز کردیا ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر جس وقت دستور مدون کررہے تھے تو اس وقت ملک میں دو دارالحکومت بنانے کی بات کررہے تھے ایک نئی دہلی میں اور دوسرا حیدرآباد میں۔

آج اس تاریخی شہر کی ترقی کیلئے مودی نے ایک بھی پروجیکٹ نہیں دیا۔ یہاں آنے والی سرمایہ کاری اور پروجیکٹس کو گجرات منتقل کردیا۔ لیکن اس بار تلنگانہ کے عوام کانگریس کوووٹ دے کر مرکز میں انڈیا اتحاد کی سرکار بنانے مدد کریں گے۔

تلنگانہ کی حکومت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی حکومت 5سال تک چلے گی۔ کوئی بھی طاقت حکومت تلنگانہ کو زوال پذیر نہیں کرسکتی۔ پریس کانفرنس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکہ، اتم کمار ریڈی، دیپا داس منشی، ناصر حسین ایم پی، منصور علی خاں سکریٹری و دیگر قائدین موجود تھے۔

پی ٹی آئی کے مطابق بی جے پی اور وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھر گے نے جمعہ کے روز کہا کہ لوک سبھا انتخابات کی تیسرے مرحلہ کی پولنگ کے بعد مودی اوران کے کابینی رفیق امیت شاہ بدحواس اور پریشان ہیں اور ان دونوں نے کانگریس کو گالیاں دینا شروع کردیا ہے۔

یہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کھر گے نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے قائدین، ترقی کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کے بجائے کانگریس قائدین کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کانگریس قائدین کی تقاریر کو مسخ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ میرے مطابق بھگوا جماعت کے قائدین کو اس طرح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔