علاقائی

ماونوازوں کے پاس جنگل چھوڑ کر عام زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں: سابق ماوسٹ ایم وینوگوپال

حال ہی میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے وینوگوپال نے گڑچرولی میں ایک تلگو نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اپنی تحریک میں شمولیت کی وجوہات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پانچ دہائیوں قبل اس وقت تحریک کا حصہ بنے تھے جب دیہاتوں میں جاگیردارانہ نظام عروج پر تھا۔

حیدرآباد: مارچ کے آخر تک ماؤنوازوں کے خاتمہ کے نشانہ کے تحت سیکورٹی فورسس کا آپریشن آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہے۔ اب تک سینکڑوں ماؤنواز ہتھیار ڈال چکے ہیں جبکہ کئی ماونواز انکاونٹرمیں ہلاک ہوگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔

ایسی صورتحال میں مرکزی کمیٹی کے سابق رکن اور سینئر سابق ماؤنواز قائد ایم وینوگوپال کا خیال ہے کہ باقی ماندہ ماونوازوںکے پاس جنگل چھوڑ کر عام زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔

حال ہی میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے وینوگوپال نے گڑچرولی میں ایک تلگو نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اپنی تحریک میں شمولیت کی وجوہات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پانچ دہائیوں قبل اس وقت تحریک کا حصہ بنے تھے جب دیہاتوں میں جاگیردارانہ نظام عروج پر تھا۔

اس وقت کسانوں کو استحصال، جبر اور بندھوامزدوری جیسی سنگین مشکلات کا سامنا تھا،اس سے متاثر ہو کر انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تاہم اب انقلاب کا راستہ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی اور طریقہ کار میں تبدیلی نہ لانے کی وجہ سے تحریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احساس بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے اسی لئے انہوں نے تحریک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔


سی پی آئی ماؤسٹ پارٹی کے مستقبل کے سلسلہ میں انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے اور یہ بات انہیں کئی سال پہلے ہی سمجھ آ گئی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگست 2024 میں پارٹی کے پولیٹیکل بیورو نے ایک سرکلر فائنل کیا تھا جس میں ان تمام مسائل کا ذکر ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت کے اعلیٰ قائد بسواراجو کی موجودگی میں لیا گیا تھا جہاں بسواراجو، لکشمن راؤ، گنپتی اور خود وینوگوپال نے مل کر ملک بھر میں تحریک کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد ایک نئی سمت کا تعین کیا تھا۔

ہتھیار چھوڑنے کے فیصلہ پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ اگست 2024 کی مرکزی کمیٹی کی میٹنگ میں جنرل سکریٹری بسواراجو کا لیا ہوا فیصلہ تھا جنہوں نے دیگر ساتھیوں کو بھی اسی راستہ پر چلنے کی ہدایت دی تھی۔


نئے تلنگانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ترقی کو الگ نظرئیے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی، عدم مساوات اور ذات پات کی تفریق کس حد تک ختم ہوئی؟ ان کے مطابق آج کا دور کارپوریٹائزیشن کا ہے جو پرانے دور سے مختلف چیلنجس رکھتا ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے 31 مارچ تک دیئے گئے نشانہ اور سیکورٹی فورسس کی کارروائیوں پر انہوں نے کہا کہ مسلسل دباؤ کی وجہ سے پارٹی کو بڑا نقصان ہوا ہے اور اب تحریک کو آگے بڑھانا ناممکن ہے اسی لئے ماؤنوازوں کے لئے عام زندگی میں شامل ہونا ہی واحد راستہ ہے۔


ٹی تروپتی کے بطور جنرل سکریٹری تقرر کی خبروں کو انہوں نے میڈیا کی قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تلنگانہ ڈی جی پی کی جانب سے ماؤنوازوں کو ہتھیار ڈالنے کی اپیل پر انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ تمام کیڈر باہر آ کر عام زندگی گزاریں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں پولیس نے آپریشن روک کر ماؤنوازوں کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ مستقبل میں سیاست میں شمولیت کے سوال پر وینوگوپال نے کہا کہ سیاست کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہوتی وہ جہاں بھی رہیں گے عوام کے مسائل کے حل کے لئے کام کرتے رہیں گے۔