عیسائی خاتون سے نکاح، جس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا
مفتی صاحب نے صحیح کہا کہ اس صورت میں تجدید نکاح کی ضرورت نہیں تھی، شرعا اس کا نکاح درست تھا، اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد حلال ہے، اس میں کسی تردد کی بات نہیں ہے۔
سوال: میرے ایک عزیز دوست… اہل سنت سے ہیں اپنے ساتھ سرکاری ملازمت کرنے والی عیسائی خاتون سے ’’ رجسٹرار آف میریجس ‘‘ میں نکاح کیاتین مسلمان گواہوں کے روبرو، پھردونوں کی رضامندی سے مہر مقرر کر کے ادا کر دیا گیا،
خاتون نے کئی ایک اسلامی کتب اور قرآن پاک کے ترجمہ کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام قبول کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہو گئی، ان کے بچے بھی ہوئے، اس بات کو میں پوری طرح جانتا ہوں، میرے دوست نے اس بات کو اپنے مقامی مفتی صاحب سے رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نکاح جائز ہے،
تجدید نکاح کی ضرورت نہیں، اور اسلام قبول کرنے سے محترمہ کے پچھلے تمام گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں، میں اور میرے دوست یہ ارادہ کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو تجدید نکاح کے لئے مفتی صاحب کے مدرسہ میں یا پھر گھر میں انتظام کر لیں گے؛
لیکن مفتی صاحب نے کہا کہ ضرورت نہیں ہے، مفتی صاحب کا انتقال ۲۰۱۶ء میں ہوا اور متذکرہ خاتون کا انتقال ۲۰۰۹ء میں، براہ کرم یہ بتا دیجئے کہ نکاح منعقد ہوا ، رہنمائی فرمائیں؟
(محمد عامر، هاشم آباد)
جواب:ایک مسلمان مرد کا نکاح یا تو مسلمان عورت سے ہو سکتا ہے یا ایسی یہودی وعیسائی عورت سے جو خدا پر، قیامت پر، نبوت ووحی کے نظام پر ایمان رکھتی ہو، اگر وہ عورت اس طرح کی عیسائی تھی،
صرف نام کی عیسائی نہیں تھی اور دونوں نے کم سے کم دو مسلمان مرد گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کر لیا تو نکاح منعقد ہوگیا، اگر نکاح کے وقت مہرمتعین نہ ہو تب بھی نکاح ہو جاتا ہے،
مگر مہر واجب ہوتا ہے، جب بعد میں باہمی رضامندی سے مہر بھی متعین ہوگیا اور اس کی ادائیگی بھی عمل میں آگئی تو اب یہ ذمہ داری بھی پوری ہوگی، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بعد میں اس خاتون نے اپنے مطالعہ کی بنیاد پر اسلام بھی قبول کر لیااور اس طرح اس نے اپنے لئے آخرت کے نجات کا توشہ بھی تیار کر لیا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
مفتی صاحب نے صحیح کہا کہ اس صورت میں تجدید نکاح کی ضرورت نہیں تھی، شرعا اس کا نکاح درست تھا، اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد حلال ہے، اس میں کسی تردد کی بات نہیں ہے۔