مسنون نکاح کی تحریک اور اخلاص
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کے بیانر تلے چند دن قبل ایک اہم اجلاس حیدرآباد میں جنرل سکریٹری بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی زیر نگرانی منعقد ہوا جس میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درجنوں علماء کرام نے شرکت کی۔

حیدرآباد: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تین اہم اہداف میں ایک اصلاح معاشرہ بھی ہے اور اس خصوص میں بورڈ نے ایک اصلاح معاشرہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان اور ان کے انتخاب کے پیمانہ کے بارے میں آگہی نہیں دی گئی ہے۔
اصلاح معاشرہ کے ضمن میں بورڈ نے گزشتہ چند دنوں سے آسان اور مسنون نکاح کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت وقتاً فوقتاً اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں اور تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔
اسی کے حصہ کے طور پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کے بیانر تلے چند دن قبل ایک اہم اجلاس حیدرآباد میں جنرل سکریٹری بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی زیر نگرانی منعقد ہوا جس میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درجنوں علماء کرام نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں آئندہ کے لئے لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا، عہد بھی کیا گیااور عاملہ اور مجلس انتظامیہ بھی تشکیل دی گئی جس میں ایک مخصوص مکتب فکر کے علماء کا ہی غلبہ رہا ہے یہ اور بات ہے کہ اس میں آئندہ دیگر مکاتب فکر کے علمائے کرام کو بھی شامل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ایک عرصہ دراز سے نکاح کو آسان بنانے اور سنت کے مطابق انجام دینے کی فکر کی جاتی رہی ہے مگر ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اس خصوص میں تمام تر توجہ صرف تقریب نکاح کو آسان بنانے پر مرکوز کی جاتی ہے جب کہ امور نکاح کا اہم جز ولیمہ بھی ہے
مگر کسی نے بھی ولیمہ کو مسنون بنانے اور اس میں اسراف کے بارے میں توجہ دلانا مناسب نہیں سمجھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نکاح سے زیادہ خرافات ولیمہ میں دیکھنے میں آتے ہیں پھر بھی اس کوولیمہ مسنونہ ہی قرار دیا جاتا ہے۔
احادیث میں چونکہ نکاح کے موقع پر لڑکی کے ولی کی طرف سے طعام کا اہتمام کرنے کی روایات مفقود ہیں اس لئے ایک عام تاثریہ پایا جاتا ہے کہ نکاح کے موقع پر دعوت طعام کا اہتمام کرنے کی شریعت میں گنجائش نہیں ہے۔
ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دعوت طعام کا اہتمام نکاح کے شرعی احکام سے نہیں بلکہ مقامی رواج و تہذیب سے ہے اس لئے اگر یہ دعوت میں اسراف اور خرافات سے پاک ہوں تو اس کے اہتمام میں کوئی ممانعت نہیں ہے چونکہ ہمیں تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نجاشی نے حبشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقد نکاح کیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے دی گئی مہر کی رقم حضرت ام حبیبہؓ کے وکیل حضرت خالد بن سعیدؓ کے سپرد کردیئے جانے پر اس محفل میں موجود لوگ اٹھنے کا ارادہ کیا تو نجاشی نے کہا کہ انبیاء علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ جب وہ نکاح کرلیں تو نکاح کے بعد کچھ کھلاتے ہیں۔ اس کے برخلاف احادیث صحیحہ میں مسجد میں نکاح سے متعلق ہمیں کوئی صریح روایت نہیں ملتی۔
البتہ ایک ضعیف حدیث اس سلسلہ میں ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو اسے مسجد میں کرو اور اس موقع پر دف بجاؤ (ترمذی) مگر آج کل مسجد میں نکاح کی ترغیب دی جارہی ہے، اگرچہ مسجد میں نکاح کرنا بھی درست ہے مگر واقعی مسجد میں نکاح کرنے میں برکت ہوتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین بھی ایسا کرتے تھے۔
نکاح کا اعلان کرنے اور دف بجانے کے بارے میں ہمیں احادیث صحیحہ ملتی ہیں بلکہ یہ حدیث بھی ہے کہ حرام او رحلال کے نکاح کے درمیان فرق صرف دف بجانے اور اعلان کرنے کا ہے۔ اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ مساجد میں نکاح کے موقع پر مسجد کا ادب و احترام نہیں رکھا جاتا بلکہ نکاح کی تقریب کے باعث مسجد میں گندگی بھی پھیل جاتی ہے۔
اس لئے مسجد میں نکاح اسی صورت میں کیا جائے جب ہم مسجد کے تقدس کو باقی رکھ پاتے ہیں۔ ایک اور بات یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر انواع و اقسام کے پکوان اصل موضوع بنتا جارہا ہے مگر ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کے اجلاسوں اور دینی پروگراموں کے موقع پر مہمان علمائے کرام کے اعزاز میں ہمہ اقسام کے پکوانوں کے ذریعہ شرکاء کی ضیافت کی جاتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا عقد نکاح اور ولیمہ کی تقاریب میں ہی مہمانوں کی تواضع میں سادگی کو اختیار کرنا چاہئے؟
ہم نے موجودہ دور میں اس جانب توجہ ہی نہیں دی کہ منگنی کے کچھ عرصہ بعد نکاح کی تقریب رکھی جاتی ہے اور اس اثناء منگیتر ایک دوسرے سے فون پر بات چیت بھی کرتے ہیں اور اب تو یہ اوٹنگ بھی کرنے لگے ہیں اور بعض کیسس میں یہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرلیتے ہیں اور نکاح سے قبل یہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔
اس کا ایک بہتر طریقہ شہر کے ہی ایک عالم دین نے یہ نکالا کہ انہوں نے منگنی کی بجائے اپنی لڑکی کا نکاح کردیااور وداعی کو چند وجوہات کی بناء پر مؤخر کردیا۔ اس صورت میں اگر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں یا ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں تو دونوں ہی گنہگار نہیں ہوں گے۔
ہمیں یہ بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اسراف کا پیمانہ فرد یا خاندان کے اعتبار سے الگ الگ ہوگا اس لئے اسراف کے احکام بھی جداگانہ ہوں گے۔ یہاں اٹھائے گئے اعتراضات کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ نکاح کو آسان بنانے کی مہم چلانے کی کسی کو ضرورت ہی نہیں ہے یا کسی کو اس کا حق ہی نہیں ہے۔
ضرور یہ مہم چلائی جائے مگر اخلاص کے ساتھ اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نہ کہ اپنے کسی کو بورڈ میں جگہ دلانے یا شہرت حاصل کرنے۔