دہلی

مولانا کلیم صدیقی پر کیس کی سماعت میں تاخیر کا الزام

حکومت ِ اترپردیش نے منگل کے دن سپریم کورٹ سے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی‘ اجتماعی تبدیلی مذہب کیس کی سماعت ملتوی کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

نئی دہلی: حکومت ِ اترپردیش نے منگل کے دن سپریم کورٹ سے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی‘ اجتماعی تبدیلی مذہب کیس کی سماعت ملتوی کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
نیٹ یوجی تنازعہ، این ٹی اے کی تازہ درخواستوں پر کل سماعت
مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی درخواست کی جلد سماعت کی جائے: سپریم کورٹ
مسلم خواتین کے لئے نان و نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش: نائب صدر جمہوریہ
نیٹ یوجی کونسلنگ ملتوی
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی

مولانا پر اترپردیش اے ٹی ایس نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں تبدیلی مذہب کا بہت بڑا سنڈیکیٹ چلاتے ہیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پراشد نے جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ سے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی اور دیگر ملزمین تحت کی عدالت کی کارروائی میں تاخیر کی کوشش کررہے ہیں۔

مولانا کلیم صدیقی کے وکیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں 11 گواہوں پر جرح ہوچکی ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بنچ سے گزارش کی کہ مزید حقائق ریکارڈ پر لئے جائیں۔

بنچ نے ریاستی حکومت کو اجازت دی کہ وہ 19 مارچ تک ایک اور حلف نامہ داخل کرے۔ معاملہ کی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔ حکومت ِ اترپردیش نے مولانا کلیم صدیقی کی ضمانت منسوخ کرانے سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست داخل کی۔

مولانا کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے گزشتہ برس ضمانت منظور کی تھی۔ جسٹس عطاء الرحمن مسعودی اور جسٹس سروج یادو پر مشتمل بنچ نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

مولانا کلیم صدیقی کو 100 افراد کے دھرم پریورتن کے الزام میں میرٹھ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے انہیں اس بنیاد پر ضمانت دی تھی کہ سپریم کورٹ اسی کیس کے ایک اور ملزم کو ضمانت دے چکی ہے۔

a3w
a3w