تلنگانہ میں میڈارم جاترا: درخت کے نیچے جگہ دینے ایک ہزار روپے کی وصولی۔ استحصال کی نئی مثال
اس جاترا کو ایشیا کی سب سے بڑی قبائلی جاتراقراردیاجاتا ہے جس میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں سے بھی قبائلی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ ہجوم کا عالم یہ ہے کہ میڈارم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی ہے اور لاکھوں لوگ یہاں پہنچ کر گڑکا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے کمبھ میلہ کے طور پر عالمی شہرت یافتہ میڈارم سمکا۔سارلماں جاتراجوش وخروش سے جاری ہے۔
اس جاترا کو ایشیا کی سب سے بڑی قبائلی جاتراقراردیاجاتا ہے جس میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں سے بھی قبائلی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ ہجوم کا عالم یہ ہے کہ میڈارم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی ہے اور لاکھوں لوگ یہاں پہنچ کر گڑکا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
شردھالووں کے اس غیر معمولی ہجوم نے جہاں ایک طرف میلہ کی رونق بڑھائی ہے، وہیں دوسری طرف تاجروں کا کافی فائدہ دیکھاجارہا ہے۔ گوشت، شراب، ناریل، گڑ اور کرایہ کے کمروں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تو درخت کے نیچے بیٹھنے کے لئے بھی پیسے وصول کئے جا رہے ہیں۔
میڈارم پہنچنے والے افرادکو تاجروں کی جانب سے مبینہ طور پر لوٹا جا رہا ہے۔ روایت کے مطابق شردھالوگڑ کے ساتھ مرغیوں اور بکروں کی قربانی بھی پیش کرتے ہیں لیکن دور دراز سے آنے والے مسافروں کے لئے اپنے ساتھ جانور لانا مشکل ہوتا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں دگنی کر دی گئی ہیں۔
باہر 170 روپے فی کلو ملنے والی زندہ مرغی جاترا میں 350 روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ مٹن کی قیمت 1500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح زندہ بکرے گوشت کی قیمت جو عام طور پر 420 روپے فی کلو ہوتی ہے، یہاں ایک ہزار روپے وصول کی جا رہی ہے۔
شراب اور بیئر کی ہر بوتل پر بھی 100 روپے زائد لئے جا رہے ہیں۔ رہائش کا حال یہ ہے کہ ایک دن کا کرایہ 6 ہزار روپے تک وصول کیا جا رہا ہے جبکہ باغات کے مالکان درختوں کا سایہ بھی کرایہ پر دے رہے ہیں۔
ایک درخت کے نیچے جگہ حاصل کرنے کے لئے شردھالووں کو ایک ہزار روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں، جو اس میلہ میں استحصال کی ایک نئی مثال بن گئی ہے۔