حیدرآباد

مس ورلڈ مقابلہ،مس برطانیہ کے الزامات بے بنیاد: جیش رنجن

اس کے باوجود، ہم نے مقابلہ میں شریک حسیناوں سے بات کی تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے، اور ہمیں بتایا گیا کہ تمام امیدوار مس ورلڈ کے انتظامات سے مطمئن ہیں۔

حیدرآباد: حیدرآبادمیں جاری 72ویں مس ورلڈ مقابلہ میں مس برطانیہ کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ سیاحت کے خصوصی پرنسپال سکریٹری جیش رنجن نے کہا کہ مس انگلینڈ کے تبصرے کو شائع کرنے والے اخبارکو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

اس کے باوجود، ہم نے مقابلہ میں شریک حسیناوں سے بات کی تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے، اور ہمیں بتایا گیا کہ تمام امیدوار مس ورلڈ کے انتظامات سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مس انگلینڈ، میلا میگی کو مبینہ طور پر ہراساں کئے جانے کے الزامات کی تحقیقات میں ایسے کسی الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔واضح رہے کہ 24سالہ میلا میگی نے اس مقابلہ سے دستبرداری اختیار کر کے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔

انہوں نے مقابلہ سے علیحدہ ہونے کی وجہ ذاتی اور اخلاقی خدشات بتائی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تلنگانہ میں ہراساں کیا گیا۔میگی 7 مئی کو حیدرآباد پہنچی تھیں لیکن 16 مئی کو مقابلہ سے دستبردار ہو کر واپس برطانیہ چلی گئیں۔

برطانوی اخباردی سن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ شرکاء سے کہا گیا کہ وہ درمیانی عمر کے مردوں کے ساتھ میل جول رکھیں تاکہ ان کی مالی مدد کے لئے اظہارِ تشکر کیا جا سکے

اس معاملہ کی ریاستی حکومت کی جانب سے جانچ کی گئی اور کہا گیا کہ یہ الزامات سراسرجھوٹے ہیں۔