اخلاق و کردار ہماری وراثت، زندگیوں کو عین قرآنی تعلیمات کے مطابق گزاریں: پروفیسر مسعود احمدقطب شاہی جامع مسجد باٹاسنگارام میں پہلا نعتیہ مشاعرہ، شعرا نے ایمان افروز کلام پیش کیا
ایوان احمد ملک پیٹ کے زیرِ اہتمام 11 رمضان المبارک، بروز اتوار، جامع مسجد قطب شاہی (بڑی مسجد) باٹاسنگارام، نزد راموجی فلم سٹی، حیات نگر منڈل میں پہلی مرتبہ ایک روح پرور نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی استادِ سخن ڈاکٹر فاروق شکیل نے کی، جبکہ شعرائے کرام نے اپنے ایمان افروز کلام سے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔
حیدرآباد: ایوان احمد ملک پیٹ کے زیرِ اہتمام 11 رمضان المبارک، بروز اتوار، جامع مسجد قطب شاہی (بڑی مسجد) باٹاسنگارام، نزد راموجی فلم سٹی، حیات نگر منڈل میں پہلی مرتبہ ایک روح پرور نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی استادِ سخن ڈاکٹر فاروق شکیل نے کی، جبکہ شعرائے کرام نے اپنے ایمان افروز کلام سے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد مسعود احمد، چیف آپریٹنگ آفیسر رینوابی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہبِ اسلام میں ایمان و تقویٰ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی عین قرآنی تعلیمات کے مطابق گزارے۔ انہوں نے موجودہ دور میں رشتوں کی پامالی، باہمی جھگڑوں اور دوریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاف کرنے کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیشہ عفو و درگزر کو پسند فرمایا، یہاں تک کہ اپنی جان کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ صلہ رحمی اور معافی کی یہ مثال رہتی دنیا تک پیش کی جاتی رہے گی۔ پروفیسر مسعود احمد نے مزید کہا کہ آج کا دور نفسا نفسی کا دور بن چکا ہے، حسد اور جلن نے انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا ہے۔ احترامِ باہمی اور جذبۂ انسانیت کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اخلاق اور کردار ہماری اصل وراثت ہیں اور نئی نسل کو ان اقدار سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ وہ نوجوانوں میں بڑوں، اساتذہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ادب و احترام کا شعور پیدا کریں۔
تقریب کا آغاز ڈاکٹر محمد ثناء اللہ کی قراءتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس موقع پر مہمانِ اعزازی جناب محمد عبدالرشید، سابق خطیب، نے اپنی 93 سالہ زندگی کے تجربات اور خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے عہدِ رفتہ کے دکن کے شعراء کے نعتیہ کلام پیش کیے، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
مسجد کے امام مولانا حافظ و قاری عبدالمجید نے محفل کو سراہتے ہوئے کہا کہ شعرائے کرام کے ایمان افروز کلام نے دلوں میں تازگی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس مسجد میں اس طرح کی مذہبی و ادبی محافل منعقد کی جائیں، کیونکہ یہ علاقہ شہر سے دور ہونے کے سبب ایسی تقاریب سے محروم رہتا ہے۔ انہوں نے طاق راتوں میں بھی خصوصی پروگرام منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
نعتیہ مشاعرہ میں صدرِ مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ جناب سمیع اللہ حسینی سمیع، پروفیسر محمد مسعود احمد، قاری انیس احمد انیس، لطیف الدین لطیف، جہانگیر قیاس، باسط علی رئیس اور عبدالرشید ارشد نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرہ کی نظامت لطیف الدین لطیف نے انجام دی۔
اس موقع پر جناب محمد حسام الدین ریاض، جناب محمد عبدالنعیم (صدر انتظامی کمیٹی مسجد قطب شاہی)، جناب محمد صدیق (نائب صدر)، جناب محمد نورباشاہ (معتمد) کے علاوہ ڈاکٹر محمد سہیل احمد، جناب محمد عبدالحمید، جناب آفتاب عالم، محمد ارشاد، حافظ جمیل احمد، محمد غوث (منڈل کوآپشن ممبر)، محمد مظہر، محمد عبدالوسیم، نواز خان، محمد صدیق، محمد طاہر اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
محفل اختتام پر دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی اور حاضرین نے اس روحانی و ادبی اجتماع کو بے حد سراہا۔