دہلی

مسلمان بی جے پی کے تئیں اپنا نظریہ تبدیل کریں : مختار عباس نقوی

سینئر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے اپوزیشن کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے آج انہیں جاگیر دار سلطانوں کا مبینہ سیکولرسنڈیکیٹ قرار دیا جو مسلمانوں میں خوف پیدا کررہے ہیں جس کی وجہ سے بی جے پی کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی ہے۔

نئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے اپوزیشن کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے آج انہیں جاگیر دار سلطانوں کا مبینہ سیکولرسنڈیکیٹ قرار دیا جو مسلمانوں میں خوف پیدا کررہے ہیں جس کی وجہ سے بی جے پی کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں
وزیراعظم کی جانب سے درگاہ اجمیر شریف کو چادر کی روانگی پر نقوی کا ردعمل
کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کیلئے قرآن فہمی اور سیرتِ نبویؐ کا عملی مطالعہ ناگزیر: ڈاکٹر محمد قطب الدین
ملک کی جمہوری نوعیت کو بڑھانے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت : نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات
جنگ بدر: حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ، مرکز نالج سٹی میں عظیم الشان روحانی کانفرنس
رمضان المبارک کے انتظامات پر ضلع ایڈیشنل کلکٹر محبوب نگر  کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

انہوں نے کہاکہ اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کو بی جے پی کے تئیں اپنا نظریہ بدلنا چاہئے اور اسے روکنے کے پرانے طریقہ کے بجائے پارٹی کے نقش قدم پر چلنے کا جذبہ پیدا کرناچاہئے۔ نقوی لکھنو میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کی رکنیت سازی مہم کے ایک حصہ کے طور پر ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی اپنی ترقیاتی پالیسیوں میں کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کرتی۔ اسی شمولیت کو تمام برادریوں کی طرف سے انتخابی تائید میں تبدیل ہوناچاہئے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں سخت محنت کرنی ہوگی تاکہ اقلیتیں اور مسلمان بی جے پی کو شکست دینے کے اپنے دہائیوں قدیم طریقہ کو تبدیل کرتے ہوئے اسے تائید کرنے کے جذبہ کے ساتھ بدلیں۔ جب بی جے پی ترقی کے معاملہ میں کسی طبقہ کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کرتی تو پھر بی جے پی کو ووٹ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔

سابق وزیر اقلیتی امور نے اپوزیشن کی جانب سے بی جے پی کو مخالف دستور قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہاکہ یہ سچائی کے پہاڑ کو جھوٹ کی جھاڑیوں کے نیچے چھپانے کی جاگیردارنہ کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک ایسے شخص ہیں جو جمہوریت کے مندر میں ماتھاٹیکتے ہیں اور دستور کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں۔ وہ اس شمولیاتی سفر کو بہتر حکمرانی کی طرف لے جارہے ہیں۔