جنوبی بھارت

نیٹ امتحان برخاست کردیاجائے،سابق چیف منسٹرٹاملناڈو کا مطالبہ

اوپنیر سیلوم نے مرکز سے مطالبہ کیاکہ اس امتحان کو برخاست کردیاجائے۔ سابق چیف منسٹر نے الزام عائدکیاکہ یہ امتحان بنیادی طور پر پیسے والے طلبہ کے لئے ڈیزائن کردہ ہے۔

چینائی: اے آئی اے ڈی ایم کے سے خارج قائد اور سابق چیف منسٹر ٹاملناڈو اوپنیرسیلوم نے کہا ہے کہ نیٹ امتحان شہری طلباء کے موافق ہے اور اسے برخاست کردیناچاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتحان سی بی ایس سی طلباء کے حق میں ہے جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں رہنے والے طلباء میڈیکل کالجس میں داخلہ نہیں لے پاتے۔

متعلقہ خبریں
کوٹا میں ایک اور کوچنگ طالبہ کی خودکشی

 انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیاکہ اس امتحان کو برخاست کردیاجائے۔ سابق چیف منسٹر نے الزام عائدکیاکہ یہ امتحان بنیادی طور پر پیسے والے طلبہ کے لئے ڈیزائن کردہ ہے۔

انہوں نے نیٹ ٹاپرس کے انٹرویوز کا حوالہ دیاجنہوں نے میڈیا سے کہا ہے کہ انہوں نے نیٹ امتحان کی کوچنگ لی تھی اور این سی ای آرٹی کی کتابیں یہ امتحان کامیاب کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک کو چھوڑکرسارے ٹاپرس نے نیٹ کی کوچنگ لی جو دیہی علاقوں میں رہنے والے طلبہ نہیں لے سکتے۔

 سابق چیف منسٹر نے کہا کہ ٹاملناڈو کی 75 فیصد طلباء کا پس منظر دیہی ہے اور یہ ریاستی حکومت کے نصاب کی پڑھائی کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں رہنے والے طلبہ غریب اور درکنارہوتے ہیں۔ اوپنیرسیلوم نے چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن سے بھی مطالبہ کیاکہ  نیٹ امتحان برخاست کرانے مرکزی حکومت پردباؤ ڈالیں۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2011ء میں کانگریس حکومت نے ہی نیٹ کی بنیاد ڈالی تھی اور ڈی ایم کے اس وقت کانگریس حکومت کا حصہ تھی۔ اوپنیرسیلوم نے کہا کہ سابق چیف منسٹرٹاملناڈو آنجہانی جے جیہ للیتا نے نیٹ امتحان کی پُرزور مخالفت کی تھی اور کہاتھا کہ اسے لاگوکیاگیاتو دیہی طلباء کی حق تلفی ہوگی۔