ایران پر نئے حملوں کے حامی نیتن یاہو، ٹرمپ انتظامیہ نے انتخابات تک انتظار کرنے کو کہا: رپورٹ
رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ''مسٹر نیتن یاہو دراصل انتخابات سے پہلے ایران پر مشترکہ حملے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو اس کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی، لیکن مسٹر ٹرمپ نے اس کی منظوری نہیں دی۔''
یروشلم: اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران پر نئے حملوں کے لیے دباؤ ڈالا ہے، تاہم امریکی حکام نے ان سے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے مشترکہ فوجی آپریشن کے لیے تیار ہونے تک انتظار کریں۔
سی این این نے دو امریکی حکام اور اسرائیل کے ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”مسٹر نیتن یاہو دراصل انتخابات سے پہلے ایران پر مشترکہ حملے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو اس کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی، لیکن مسٹر ٹرمپ نے اس کی منظوری نہیں دی۔”
نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو ‘جعلی خبر’ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کی ایک وجہ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کی جانب سے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو دی گئی وارننگ بھی تھی۔ مبینہ طور پر مسٹر ضمیر نے خبردار کیا تھا کہ حملے سے اسرائیل کے انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں اور انہیں ملتوی کرنا پڑسکتا ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 نیوز نے اتوار کو خبر دی کہ منگل کو ہونے والی ووٹنگ سے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے ضمیر اور نیتن یاہو کے درمیان غیر معمولی نوعیت کا تصادم ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ضمیر کو سیاسی قیادت کی جانب سے ایران کے معاملے میں ایک ہدایت موصول ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کارروائی سے پہلے تفصیلی تبادلۂ خیال اور قانونی منظوری کا مطالبہ کیا۔ انہیں خدشہ تھا کہ اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں غلط اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور فوری طور پر تصادم شروع ہوسکتا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس رپورٹ کو ”بالکل بے بنیاد اور جھوٹی” قرار دیا۔