پزشکیان کی معافی کے بعد عرب ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کی نئی لہر ، سعودی عرب کا ایران کو پہلی بار جوابی حملے کا انتباہ
خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ریاض : ہمسایہ ممالک سے معافی مانگنے والے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے بیان کے صرف ایک دن بعد خلیج فارس کے کئی ممالک میں اتوار کی صبح ڈرون اور میزائل حملوں کی نئی لہر ریکارڈ کی گئی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کویت فوج نے کہا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایندھن ذخیرہ کرنے کے علاقے کو ‘دشمن ڈرونز کی لہر’ نے نشانہ بنایا۔ فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرون اور بیلسٹک میزائل مار گرائے، لیکن روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے کچھ شہری ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون حملے میں ‘پبلک انسٹیٹیوشن فار سوشل سکیورٹی’ کی عمارت بھی متاثر ہوئی۔ تقریباً 22 منزلہ اس عمارت میں آگ لگنے کی تصاویر سامنے آئی ہیں، لیکن اس میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔ اسی دوران کویت کے بارڈر سکیورٹی فورس کے دو اہلکار اتوار کی صبح ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ ایئرپورٹ اور سرکاری عمارت پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہے یا نہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بھی اتوار کی علی الصبح ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے کم از کم 21 ڈرون مار گرائے ہیں۔ بحرین میں وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے ایک یونیورسٹی کی عمارت کو نقصان پہنچا اور تین افراد زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ ایک سمندری پانی صاف کرنے کا پلانٹ بھی نقصان کا شکار ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام اتوار کی صبح ایک ممکنہ میزائل خطرے کا سامنا کر رہے تھے۔
ان حملوں سے ایک دن قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک سے گزشتہ ہفتے امریکی اڈوں پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان پر حملہ نہیں کیا گیا تو ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ بعد میں صدارتی دفتر نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر علاقائی ممالک امریکہ کے حملوں میں تعاون نہیں کرتے تو ایران بھی ان پر حملہ نہیں کرے گا۔