سوشیل میڈیاقومی

چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے قریب نومولود بچی لاوارث چھوڑ دی گئی (ویڈیو)

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خاتون نے ابتدائی طور پر بچی کو قریبی شمشان گھاٹ میں چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن وہاں لوگوں کی موجودگی کے باعث اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور بچی کو سڑک کے کنارے چھوڑ دیا۔ پولیس کے مطابق بچی کی پیدائش شادی کے بغیر قائم تعلق کے نتیجے میں ہوئی تھی۔

چنئی۔ چیف منسٹر وجئے کی رہائش گاہ کے قریب سڑک کے کنارے نومولود بچی کو چھوڑنے کے معاملے میں پولیس نے 34 سالہ خاتون کی شناخت کرلی ہے، جو سابق میں ایئر ہوسٹس کے طور پر کام کرچکی ہے۔ پولیس نے خاتون کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور اسے ذہنی صحت سے متعلق – ماہرِ نفسیات سے صلاح و مشورہ کے لیے بھیج دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کو نیلانکرائی کے کپالیشور نگر میں چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے عقب میں واقع فورٹھ مین روڈ پر راہگیروں نے ایک نومولود بچی کے رونے کی آواز سنی۔ قریب جاکر دیکھنے پر بچی سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ملی۔

پولیس نے بچی کو بچاکر قریبی خانگی اسپتال منتقل کیا، جہاں سے بعد میں اسے گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہاسپٹل فار چلڈرن منتقل کردیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچی کی حالت مستحکم ہے اور اسے طبی نگہداشت فراہم کی جارہی ہے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے بچی کی دیکھ بھال کے لیے اسے ایک یتیم خانے کے سپرد کرنے کا انتظام کیا ہے۔

پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد خاتون کی شناخت اکشاں لال کے طور پر کی، جو اسی علاقے میں رہتی ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران خاتون نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے دو دن قبل اپنے گھر میں بچی کو جنم دیا تھا اور اسے دو دن تک گھر میں ہی رکھا۔ تاہم اس کے والدین نے بچی کو اپنے پاس رکھنے پر اعتراض کیا، جس کے بعد اس نے نومولود کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خاتون نے ابتدائی طور پر بچی کو قریبی شمشان گھاٹ میں چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن وہاں لوگوں کی موجودگی کے باعث اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور بچی کو سڑک کے کنارے چھوڑ دیا۔ پولیس کے مطابق بچی کی پیدائش شادی کے بغیر قائم تعلق کے نتیجے میں ہوئی تھی۔

اکشاں لال کا تعلق اترپردیش کے لکھنؤ سے بتایا گیا ہے۔ وہ تقریباً 10 سال قبل ایئر ہوسٹس کے طور پر کام کرچکی ہے ۔ پولیس کے مطابق خاتون نے بچی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

نیلانکرائی پولیس نے اس معاملے میں کمیونٹی سروس رجسٹر (CSR) درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس خاتون کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کررہی ہے۔