دہلی

نیوز کلک کیس، ارملیش اور ابھیسار سے پھر پوچھ تاچھ

ارملیش اور شرما جمعرات کی دوپہر دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے دفتر واقع لودھی کالونی پہنچے اور تحقیقات میں شامل ہوگئے۔ یہ دونوں تقریبا 6 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد واپس روانہ ہوئے۔

نئی دہلی: دہلی پولیس نے آج نیوز کلک بیرونی فنڈنگ کیس میں جاریہ ہفتہ دوسری مرتبہ صحافی ارملیش اور ابھیسارشرما سے پوچھ تاچھ کی جبکہ ایک عدالت نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کیس میں انسداد دہشت گردی قانون (یواے پی اے) کے تحت  گرفتار کئے گئے دو افراد کو ایف آئی آر کی نقل فراہم کرے۔

متعلقہ خبریں
جعلی ویزا کیس میں بنگلورو ایرپورٹ سے ایک شخص گرفتار
پیٹ بشیرآباد کی اراضی جرنلسٹس سوسائٹی کو دلانے کی استدعا
درگاہ نظام الدین کے قریب غیرمجاز تعمیرات روک دینے کی ہدایت
اسرائیلی سفارت خانہ دھماکہ کیس پولیس کو اہم ثبوت دستیاب
پارلیمنٹ دراندازی کے ملزمین کو انڈیا گیٹ لے جایا گیا

نیوز کلک کے بانی پربیر پُرکائستھ اور ایچ آر ہیڈ امیت چکروتی کو دو دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ ارملیش اور شرما جمعرات کی دوپہر دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے دفتر واقع لودھی کالونی پہنچے اور تحقیقات میں شامل ہوگئے۔ یہ دونوں تقریبا 6 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد واپس روانہ ہوئے۔

 اسپیشل کمشنر آف پولیس ایچ جی ایس دہلیوال بھی تقریبا 7 بجے شام دفتر پہنچے۔ اس وقت اِن دونوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ دیگر ملزمین جن سے منگل کے دن پوچھ تاچھ کی گئی تھی آنے والے دنوں میں ایک بار پھر پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے۔

 قبل ازیں موصولہ اطلاع کے بموجب  دہلی پولیس نے جمعرات کے روز نیوز کلک کے بانی پربیرپرکائستھ اور ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ امیت چکرورتی کی جانب سے  ایف آئی آر کی نقل فراہم کرنے داخل کی گئی درخواستوں کی مخالفت کی۔

ان دونوں کو انسداد ِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت درج کئے گئے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پورٹل پر الزام ہے کہ موافق چین پروپگنڈہ کے لئے اسے رقم حاصل ہوئی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج ہردیپ کور درخواستوں کے بارے میں دلائل کی سماعت کررہی تھیں۔

 مقدمہ کی کارروائی کے دوران چکرورتی کے وکیل نے دہلی پولیس کی جانب سے ان کے موکل کی گرفتاری کا تحریری جواز طلب کیا اور کہا کہ کسی ملزم کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنا دستوری تحفظ ہے۔

وکیل نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چند فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ اگرچیکہ یو اے پی اے کے تحت مبینہ جرائم سنگین نوعیت کے ہیں لیکن ایسی کوئی دستوری بنیاد نہیں ہے کہ استغاثہ ملزم کو ایف آئی آر کی نقل فراہم نہ کرے۔

پرکائستھ کے وکیل‘ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بحث کی کہ کسی بھی ملزم کو ایف آئی آر کی کاپی حوالہ کرنا اس کا حق ہے۔ خصوصی وکیل استغاثہ اتل سری واستو نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملزم کو پولیس کمشنر سے رجوع ہونا ہوگا جو اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔

 ملزم کی جانب سے داخل کی گئی درخواست قبل ازوقت ہے اور وہ لوگ سیدھے عدالت میں چھلانگ نہیں لگاسکتے۔ ہم نے پہلے ہی یہ بتادیا ہے کہ کن بنیادوں پر یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے اور مزید ریمانڈ میں رکھنے کی کیا وجوہات ہیں۔