اگر او سی نہیں تو بجلی نہیں، TGSPDCL کے نئے فیصلے سے حیدرآباد کی عوام شدید پریشان
حیدرآباد میں تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹیڈ (TGSPDCL) کی جانب سے بجلی کے کنکشن اور اضافی لوڈ سے متعلق سخت کیے گئے نئے قواعد نے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
حیدرآباد میں تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹیڈ (TGSPDCL) کی جانب سے بجلی کے کنکشن اور اضافی لوڈ سے متعلق سخت کیے گئے نئے قواعد نے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر پرانی عمارتوں کے مالکان کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ اضافی بجلی لوڈ کے لیے اب اوکیوپینسی سرٹیفکیٹ (OC) لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر بھر میں ہزاروں درخواستیں التوا کا شکار ہو گئی ہیں۔
بجلی محکمہ کے مطابق یہ نیا قاعدہ ان عمارتوں پر لاگو کیا جا رہا ہے جو دس میٹر سے زیادہ اونچی ہیں اور 2017 کے بعد تعمیر کی گئی ہیں یا جو پہلے سے موجود کنکشن پر اضافی لوڈ یا زیادہ کے وی اے کی درخواست دے رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات، جعلی او سی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
محکمے کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں کئی عمارتوں کو بغیر اجازت ناموں اور درست دستاویزات کے بجلی کنکشن دیے گئے۔ بعض معاملات میں جعلی او سی اور جعلی سرٹیفکیٹس کے استعمال کی شکایات سامنے آئیں، جس کے بعد ویجیلنس جانچ شروع کی گئی۔ اس جانچ کے نتیجے میں کچھ ملازمین اور کنٹریکٹرز کے خلاف کارروائی بھی کی گئی، جس کے بعد TGSPDCL نے کنکشن اور اضافی لوڈ کے عمل کو مزید سخت بنا دیا۔
تاہم اس سختی کا سب سے زیادہ اثر ان صارفین پر پڑ رہا ہے جو برسوں پرانی عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔ کئی عمارتیں ایسی ہیں جنہیں دس سے پندرہ سال قبل محدود بجلی لوڈ کے ساتھ کنکشن دیا گیا تھا، مگر وقت کے ساتھ بجلی کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اب جب یہ لوگ اضافی لوڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں تو ان سے او سی طلب کی جا رہی ہے، جو ان کے پاس موجود نہیں۔
متعدد عمارت مالکان کا کہنا ہے کہ ان کی فائلیں تین سے چار ماہ سے آگے نہیں بڑھ رہیں۔ ایک آٹھ سال پرانی عمارت کے مالک نے بتایا کہ اضافی لوڈ کی درخواست دینے پر حکام نے او سی نہ ہونے کی بنیاد پر فائل روک دی۔ اسی طرح کرمانگھٹ کی ایک عمارت، جسے دس سال پہلے بجلی کنکشن ملا تھا، نے حال ہی میں 160 کے وی اے لوڈ کے لیے درخواست دی، مگر او سی نہ ہونے کے باعث یہ درخواست بھی تین ماہ سے زیر التوا ہے۔
محکمہ کے ایک عہدیدار کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے دس سرکلز میں ہزاروں بجلی کنکشن اور اضافی لوڈ کی درخواستیں پھنسی ہوئی ہیں۔ سرکل سطح کے افسران کسی قسم کی نرمی کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کے نتیجے میں اولڈ سٹی کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ شمش آباد اور موئن آباد جیسے مضافاتی علاقوں میں بھی نئی عمارتیں بجلی سے محروم ہیں۔
TGSPDCL کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بجلی چونکہ بنیادی ضرورت ہے، اس لیے جن صارفین کے پاس مکمل دستاویزات نہیں ہیں، انہیں کیٹیگری 8 کے تحت کنکشن دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کی قیمت بارہ روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، جو عام صارفین کے لیے کافی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اس متبادل کو مجبوری میں اختیار کر رہے ہیں۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ خود محکمہ کے اندر بھی پرانی عمارتوں کے معاملے پر واضح پالیسی موجود نہیں۔ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ کچھ کیسز میں اب بھی یہ طے نہیں ہو پایا کہ آیا اصل لوڈ منظور کیا جائے یا نہیں، اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر فیصلہ باقی ہے۔ بعض علاقوں میں مقامی نمائندوں کے دباؤ کی وجہ سے مختلف فیصلے ہو رہے ہیں، جس سے الجھن اور بڑھ گئی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ او سی کے نام پر بجلی جیسی بنیادی سہولت کو روکنا ناانصافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ TGSPDCL کو پرانی عمارتوں کے لیے واضح اور یکساں رہنما اصول جاری کرنے چاہئیں، تاکہ غیر قانونی تعمیرات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ جائز صارفین کو بھی بلاوجہ پریشان نہ ہونا پڑے۔ اگر جلد وضاحت نہیں دی گئی تو حیدرآباد میں بجلی سے متعلق مسائل مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔