مشرقِ وسطیٰ میں جنگ تیز، ڈرون اور میزائل حملوں سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا
عالمی توانائی بحران کے اندیشے پیر کے دن بڑھ گئے کیونکہ مشرق ِ وسطیٰ میں جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایرانی دارالحکومت پر امریکہ اور اسرائیل کے مزید حملے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان پر بمباری کی ہے۔
بیروت (اے پی) عالمی توانائی بحران کے اندیشے پیر کے دن بڑھ گئے کیونکہ مشرق ِ وسطیٰ میں جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایرانی دارالحکومت پر امریکہ اور اسرائیل کے مزید حملے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان پر بمباری کی ہے۔
ایک ایرانی ڈرون کے حملہ سے دُبئی ایرپورٹ عارضی طورپر بند ہوگیا۔ دنیا بھر میں سفر کا یہ اہم مرکز ہے۔ عالمی معیشت خطرہ میں ہے۔ تہران جوابی کارروائی کے طورپر اسرائیل اور خطہ کے امریکی اڈوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ اس نے ہمسایہ عرب ممالک کے توانائی انفرااسٹرکچر پر ڈرون اور مزائل حملے کئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کمرشیل جہاز ایرانی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ دنیا کا 20 فیصد تیل اسی تنگ آبنائے سے گزرتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ صارفین کی تکلیف دور کرنے کے لئے کچھ کرے۔ پیر کے دن تیل کے دام فی بیرل 100 امریکی ڈالر سے زائد رہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے تقریباً 7 ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لئے اپنے جنگی جہاز بھیجیں لیکن ان کی اس اپیل پر کسی نے بھی کان نہیں دھرے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دعویٰ کو خارج کردیا کہ ان کا ملک بات چیت کے ذریعہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے آج صبح سوشل میڈیا پوسٹ کو خیالی قراردیا اور کہا کہ ان کا ملک نہ تو صلح چاہتا ہے اور نہ ہی بات چیت۔ اسرائیل کے نئے حملوں کے بعد لبنانی دارالحکومت بیروت میں کئی دھماکے سنائی دیئے۔
آئی اے این ایس کے بموجب دُبئی ایرپورٹ نے پیر کے دن تمام پروازیں بطور احتیاطی اقدام عارضی طورپر معطل کرنے کا اعلان کیا کیونکہ علاقہ میں ایک فیول ٹینک پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ دُبئی ایرپورٹ نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ڈی ایکس بی (دُبئی انٹرنیشنل ایرپورٹ) نے بطور احتیاط پروازیں عارضی طورپر معطل کردی ہیں۔ تازہ جانکاری کے لئے اپنی متعلقہ ایرلائن سے ربط پیدا کریں۔ دُبئی میڈیا آفس نے لکھا کہ تازہ جانکاری جیسے ہی ملے گی دے دی جائے گی۔
فیول ٹینک پر ڈرون حملہ کے بعد ایمرجنسی ٹیمیں فوری حرکت میں آگئیں۔ کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یو این آئی کے بموجب متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر ڈرون حملہ کے بعد بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل کردی گئی۔ فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریل زون میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق شہری دفاع کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ادھر خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ابوظبی میں میزائل حملے کی زد میں آنے والی ایک گاڑی میں سوار فلسطینی شہری جاں بحق ہو گیا۔
دوسری جانب خومین میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایک بوائز اسکول کو نشانہ بنایا گیا، تاہم صوبے کے مرکزی گورنر نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں عرب میڈیا کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے چابہار کے قریب پہاڑی علاقے میں واقع فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جبکہ توانائی کی ترسیل اور عالمی تیل منڈی پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔