حیدرآباد

صرف اویسی برادرس کے املاک میں اضافہ،پرانے شہر کے مسلمان پسماندہ: راجہ سنگھ

صدر مجلس اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی و ایم ایل اے اکبر الدین ا ویسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ دونوں بھائیوں اسد اور اکبر ایسی نے پرانے شہر میں مسلمانوں کی بہبود اور ان کی ترقی کو نظر انداز کردیاہے۔

حیدرآباد: بی جے پی قائد ٹی راجہ سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ شہر کے حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے تیسری بار منتخب ہوں گے۔ بی جے پی کے رکن مقننہ جو حلقہ گوشہ محل سے مسلسل تیسری بار مقابلہ کررہے ہیں، نے کہا کہ وہ اپنی کامیابی کی ہیٹرک کریں گے۔

متعلقہ خبریں
کالیشورم پروجیکٹ اسکام پر کانگریس کا دہرا موقف: ڈی کے ارونا
رام بھی چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کرسی نہیں بچا سکیں گے، ڈی اروند کا سنسنی خیز تبصرہ
سینئر بی جے پی قائد نندکشور یادو، بہار اسمبلی کے اسپیکر منتخب
سیاست میں دروازے، ہمیشہ بند نہیں ہوتے : بی جے پی قائد مودی
بی جے پی قائد سوریہ کانتا ویاس سے اشوک گہلوت کی حیرت انگیز ملاقات

حکمراں جماعت بی آر ایس نے اس حلقہ سے راجہ سنگھ کے خلاف گوشہ محل انچارج نندا کشور ویاس کو میدان میں اتارا ہے۔ اسمبلی الیکشن کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کا دعو یٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام زعفرانی جماعت کو منتخب کریں گے۔

صدر مجلس اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی و ایم ایل اے اکبر الدین ا ویسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ دونوں بھائیوں اسد اور اکبر ایسی نے پرانے شہر میں مسلمانوں کی بہبود اور ان کی ترقی کو نظر انداز کردیاہے۔

اویسی پر برادرس  کے اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجلس کا اثر صرف7اسمبلی حلقوں تک محدود ہے۔ اسداویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی کی املاک میں اضافہ ہورہا ہے۔ صرف یہ دونوں بھائی ہی ترقی کررہے ہیں۔ جبکہ مسلمان، پسماندہ ہیں۔ ان دوبھائیوں کی وجہ سے پرانے شہر کے مسلمان پسماندہ ہیں۔

 بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر کو ہدف ملامت بناتے ہوئے راجہ سنگھ نے کہا کہ گوشہ محل سے مجھے شکست دینے کیلئے کے ٹی آر2014 سے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر کے ٹی آر کو حلقہ گوشہ محل جیتنا ہے تو انہیں پہلے اس حلقہ کے عوام کے دلوں کو جیتنا ہوگا جو میرے ساتھ ہیں۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر مجلس، گزشتہ2انتخابات میں حلقہ کے مسلم ووٹوں کاسودا بی آر ایس سے کرچکے ہیں اور موجودہ انتخابات میں بھی اویسی نے مسلم ووٹوں کو بی آر ایس کے ہاتھوں فروخت کررہا ہے۔ راجہ سنگھ نے مزید کہا کہ انہیں اقلیتوں کی بھی تائید حاصل ہے کیونکہ وہ 2014 سے اقلیتوں کی مذمت بھی کرتے آرہے ہیں۔ انہیں حلقہ کے تمام ہندوں کی بھی تائید حاصل ہے۔

 اس لئے وہ پرُامید ہے کہ تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوجائیں گے۔ کانگریس تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کرناٹک میں انتخابی وعدوں کو روبعمل لانے میں ناکام رہی ہے۔