مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں
کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور بعض دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو لکھا ہے کہ دہلی کے اُتم نگر علاقہ میں مسلمانوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
نئی دہلی (پی ٹی آئی) کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور بعض دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو لکھا ہے کہ دہلی کے اُتم نگر علاقہ میں مسلمانوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے امیت شاہ سے گزارش کی کہ وہ دہلی پولیس کو ہدایت دیں کہ نفرت پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹے۔ محمد جاوید کے مکتوب سے چند دن قبل کئی دایاں بازو ہندو تنظیموں نے مغربی دہلی کے اُتم نگر میں احتجاج کیا تھا۔ 4 مارچ کو جھگی جھوپڑی کالونی (جے جے کلسٹر) میں ہولی کے دوران جھڑپ میں 26 سالہ ترون کی جان گئی تھی۔
بعض ہندو تنظیموں نے اس پر احتجاج کیا تھا اور ایک مسلم خاندان کی 2 گاڑیوں کو آگ لگادی تھی۔ محمد جاوید نے امیت شاہ کے نام مکتوب میں لکھا کہ اُتم نگر میں مسلمانوں کو کھلے عام دھمکایا جارہا ہے۔ ان کی روزمرہ زندگی پر خوف طاری کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔
یہ ایک پیاٹرن بن گیا ہے۔ کھلے عام دھمکیاں‘ اشتعال انگیز نعرے اور نفرت بھڑکانے والے مواد کے سرکولیشن نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا ایک گروپ خود کو قومی دارالحکومت دہلی کے اندر غیرمحفوظ سمجھ رہا ہے۔
مکتوب پر سماج وادی پارٹی‘ جے ایم ایم اور سی پی آئی ایم ایل کے بعض ارکان پارلیمنٹ نے بھی دستخط کئے۔ محمد جاوید نے کہا کہ یہ تاثر بھی پریشان کن ہے کہ پولیس ناکافی کارروائی کرتی ہے یا جانبداری برتتی ہے۔ کھلے عام دھمکیوں کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے سے نظم وضبط پر عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
انہوں نے امیت شاہ سے کہا کہ میری آپ سے گزارش ہے کہ فوری صورت ِ حال کا نوٹ لیں اور نظم وضبط کی برقراری میں کسی بھی قسم کی چوک کی جواب دہی طئے کریں۔
دہلی پولیس کو ہدایت دیں کہ وہ سختی برتے اور نفرت پھیلانے والوں‘ دھمکیاں دینے والوں یا صورتِ حال کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کے خلاف غیرجانبدارانہ کارروائی کرے۔ میڈیا سے بات چیت میں محمد جاوید نے دعویٰ کیا کہ اتم نگر میں دہشت پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امیت شاہ اور دہلی پولیس مناسب اقدامات نہیں کررہے ہیں۔