دہلی

مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو شکست

وزیر اعظم نریندرمودی نے آ ج منی پور کے عوام کو یقین دلایاکہ پورا ہندوستان اور پارلیمنٹ اُن کے ساتھ ہے اور ریاستی ومرکزی حکومت نے ریاست میں امن کی بحالی اور ترقی کو واپس لانے کیلئے تمام کوششیں کررہی ہے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندرمودی نے آ ج منی پور کے عوام کو یقین دلایاکہ پورا ہندوستان اور پارلیمنٹ اُن کے ساتھ ہے اور ریاستی ومرکزی حکومت نے ریاست میں امن کی بحالی اور ترقی کو واپس لانے کیلئے تمام کوششیں کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مغربی مہاراشٹرا، مراٹھواڑہ اور کونکن کی 11 سیٹوں پر انتخابی مہم آج شام ختم
مودی حکومت کا آخری عبوری بجٹ پیش۔ وزیر فینانس نرملاسیتارمن کی لوک سبھا میں تقریر
مودی کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر کارروائی رپورٹ طلب
اقامتی اسکولس کیلئے نیا ٹائم ٹیبل بنانے مرکزی وزیر کی خواہش
ملک کی جمہوری نوعیت کو بڑھانے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت : نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات

پارلیمنٹ میں مودی حکومت کیخلاف پیش کردہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے مودی نے یہ بات کہی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے ایوان سے یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کردیا کہ نریندرمودی کی دوگھنٹے طویل تقریر میں اُنہوں نے ایک مرتبہ بھی منی پور کا ذکر نہیں کیا۔

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد منی پور پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ منی پور میں تشدد افسوس ناک ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم ناقابل قبول ہے اور مرکزی وریاستی حکومتیں خاطیوں کو قرارواقعی سزاء دینے کیلئے مل جل کر کام کررہی ہیں۔ ہم منی پور کی اپنی ماؤ ں اور بیٹیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پورا ملک آپ کے ساتھ ہے، یہ پارلیمنٹ آپ کے ساتھ ہے۔

اُنہوں نے ہندوستان کے عوام کو بھی یقین دلایاکہ منی پور میں جلد امن بحال کرتے ہوئے وہاں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کردی جائیں گی۔ اُنہوں نے عوام سے کہاکہ درد کو سمجھ کر درد کی دوا بن کر ساتھ چلیں۔ منی پور کے عوام کی تکالیف پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے مودی نے تاہم یہ بھی کہاکہ ریاست میں کئی ایسے مسائل ہیں جو حال سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ریاست میں برسراقتدار ماضی کی کانگریس حکومتوں کی پے درپے غلطیوں کا نتیجہ ہے۔

اُنہوں نے اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں درد اور ہمدردی کا اظہار کرنے کیلئے چنندہ واقعات کا استعمال کررہی ہے۔ ان کی تمام باتیں سیاست پر شروع ہوتی ہیں اور سیاست پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ اپوزیشن پارٹیوں کے برعکس شمال مشرق اُن کیلئے جگر کا تکڑا ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد اُنہوں نے اب تک 50 مرتبہ شمال مشرق کا دورہ کیا جبکہ مرکزی کابینی وزراء نے 400 دورے کئے تاکہ اُن کی حکومت کے شروع کردہ ترقیاتی سرگرمیوں کی کامیابی کو یقینی بنایاجاسکے۔ اُنہوں نے کہاکہ شمال مشرق شائد آپ لوگوں کو کافی دور نظر آئے مگر بدلتے ورلڈ آرڈر کے پس منظر میں میں دیکھ سکتا ہوں کہ آسیان کا خطہ اُبھرنے والا ہے جس کے نتیجہ میں شمال مشرق پر توجہ مرکوز ہوجائے گی۔

اُنہوں نے کہاکہ منی پور کے مسائل کو ایسے پیش کیاجارہا ہے جیسے یہ ماضی قریب میں پیدا ہوئے ہوں۔ اُنہوں نے ماضی کی کانگریس حکومتوں کے ریکارڈ گننے شروع کردیئے اور کہاکہ یہ مسائل کانگریس دورحکومت میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے یاددلایاکہ اس طرح وہاں پر انتہا پسند اسکان مندر پر بمباری کرتے تھے اور مندر میں شام چار بجے گھنٹیاں بجانا بند کردیا جاتا تھا۔ اُنہوں نے پوچھا کہ اُس وقت وہاں کس کی حکومت تھی۔

ہماری حکومت نے اب وہاں بموں کا دور ختم کردیا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔کانگریس پارٹی پر تنقید جاری رکھتے ہوئے اُنہوں نے مزید کہاکہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں میزوروم پر بمباری کیلئے انڈین ایرفورس کو استعمال کیا گیا جبکہ 1984 میں اکال تخت پر فوجی حملہ کیا گیا۔ مودی جب تقریر کررہے تھے تو اپوزیشن جماعتوں نے انڈیا، انڈیا کے نعرے لگائے۔

انڈیا اپوزیشن اتحاد کا نام ہے۔ حکمراں بنچوں کی طرف سے مودی مودی کے نعروں کے جواب میں انڈیا کے نعرے لگائے گئے۔ اُنہوں نے انڈیا اتحاد کو گھمنڈی قراردیا۔انڈیا اتحاد میں شامل علاقائی جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے نریندرمودی نے کہاکہ وہ اپنے نظریات کو فراموش کرتے ہوئے یکجا ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے ٹاملناڈو کی ڈی ایم کے اور جنتا دل یو کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ماضی میں کانگریس کے ہاتھوں زک اُٹھانے کے باوجود اُنہوں نے آج کانگریس سے ہاتھ ملایاہے۔

اُن کی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے والی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو مغرور اور کرپٹ قرار دیتے ہوئے مودی نے کہاکہ ماضی میں بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جو اُن کیلئے خوش قسمت ثابت ہوئی اور این ڈی اے اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔

اس طرح 2018 میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد وہ 2019 میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ٹھیک اُسی طرح 2024 میں بھی کامیاب ہوں گے۔ میں اپوزیشن پارٹیوں سے 2028 میں بھی تحریک اعتماد پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اُن کی اس بات پر حکمرا ں بنچوں میں قہقہے پھوٹ پڑے۔ اُنہوں نے عوام کو یقین دلایاکہ وہ اپنی تیسری میعاد میں ہندوستان کو تیسری بڑی معیشت میں تبدیل کردیں گے۔

a3w
a3w