حیدرآباد

عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف بند۔کئی اے بی وی پی کارکن زیرحراست

شہرحیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے منائے گئے بند کے پیش نظر معمولی کشیدگی دیکھی گئی

حیدرآباد: شہرحیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے منائے گئے بند کے پیش نظر معمولی کشیدگی دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش

پیر کے روز کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اے بی وی پی کے طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرتے ہوئیآرٹس کالج کے سامنے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کی کاپیاں نذر آتش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج پر پابندی کا فیصلہ غیر جمہوری ہے اور وائس چانسلر کے آمرانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

صبح سے ہی عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے کئی اے بی وی پی کے لیڈروں کو احتیاطی طورپر حراست میں لے لیا کیونکہ وہ احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

مظاہرین کو بھی اویوپولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ یہ سرکلر طلبہ کو فنڈس کی کمی، فیکلٹی کی بھرتی، معیاری تعلیم اور ناقص خوراک جیسے مسائل کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کی سازش ہے۔

اے بی وی پی نے کہا کہ اگریونیورسٹی اس سرکلر کو واپس نہیں لیتی تو وہ ”چلو اسمبلی” احتجاج کیاجائے گا۔