حیدرآباد

موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش

ریاستی حکومت نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے جس پر تقریباً 6500 کروڑ سے 7000 کروڑ روپے تک لاگت آنے کا اندازہ ہے۔

حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) ریاستی حکومت نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے جس پر تقریباً 6500 کروڑ سے 7000 کروڑ روپے تک لاگت آنے کا اندازہ ہے۔

متعلقہ خبریں
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
فلم ”گیم چینجر“کے اضافی شوز اور ٹکٹ قیمتوں میں اضافہ کی اجازت سے حکومت دستبردار، احکام جاری
پرجاوانی پروگرام کی تاریخ تبدیل
سلائی مشینوں کی تقسیم، اہل عیسائی خواتین سے درخواستیں مطلوب
وزیر سیتا اکا نے بھگدڑواقعہ میں زخمی لڑکے سری تیج کی عیادت کی

اس مرحلہ میں باپو گھاٹ کے مقام پر گاندھی سروور کی ترقی شامل ہے اور اس میں دریا کے دو ایسے حصوں کو شامل کیا گیا ہے جو مجوزہ ذخیرہ آب پر آ کر ملتے ہیں۔ اس منصوبہ کے پہلے مرحلہ کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ میئن ہارٹ گروپ، آر آئی او ایس اور کشمین اینڈ ویک فیلڈ پر مشتمل کنسورشیم نے حال ہی میں پیش کی ہے۔

موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر ای وی نرسمہا ریڈی نے کل چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی موجودگی میں اس منصوبہ پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی۔ پریزنٹیشن کے مطابق حکومت نے ایک خصوصی گریڈواٹر مینجمنٹ نظام تجویز کیا ہے جس کے تحت موسیٰ بفر زون میں بڑے ایس ٹی پیز کے قریب عطاپور، عنبرپیٹ اور ناگول کے علاقوں میں تین بڑے بیلنسنگ واٹر ریزروائر تعمیر کیے جائیں گے جہاں حیدرآباد کے مختلف سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے صاف کیا گیا پانی محفوظ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ آؤٹر رنگ روڈ کوریڈور کے ساتھ ایک رنگ بند تعمیر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ صاف شدہ پانی کو مختلف مقاصد جیسے باغبانی، آبپاشی، تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعتی استعمال کے لیے منتقل کیا جا سکے۔

مجوزہ ریور فرنٹ زون میں اپروچ روڈس‘ سائیکلنگ ٹریکس، کھلے مقامات اور پارکس بھی شامل ہوں گے۔ گاندھی سروور کے ماسٹر پلان میں اسٹیچو آف پیس، ہینڈلوم ٹریننگ سنٹر، تعلیم و علم کا مرکز، عوامی تفریحی مقامات، میڈیٹیشن و ویلنیس ولیج اور ایک قومی میوزیم کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔