مشرق وسطیٰ

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے خلاف آپریشن غضب الحق کا آغاز کیا، فضائی حملے کئے

پاکستان نے سرحد پار سے مبینہ "بلا اشتعال فائرنگ" کے بعد افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب الحق شروع کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق پاکستانی مسلح افواج نے فضائی حملے کیے اور کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کے اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

نئی دہلی: پاکستان نے سرحد پار سے مبینہ "بلا اشتعال فائرنگ” کے بعد افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب الحق شروع کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق پاکستانی مسلح افواج نے فضائی حملے کیے اور کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کے اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں
کابل میں افغانستان کے پہلے کینسر سنٹر کا افتتاح
افغان شہریوں کو جاری ہزاروں پاکستانی پاسپورٹس کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات
پاکستانی چوکی پر حملہ، 5 فوجی اور 5 دہشت گرد ہلاک
ایران کا افغانستان کے ساتھ بارڈر سیل کرنے کا فیصلہ
چین نے طالبان کے سفیر کے کاغذات تقرر قبول کرلئے


سرکاری نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں کابل میں بریگیڈ کے دو ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے۔


براڈکاسٹر نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ "پاکستانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور وہ منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”


جمعہ کو پاکستان نے افغانستان کے شہر کابل اور قندھار پر بمباری کی۔ یہ حملہ افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی دستوں پر حملے کے چند گھنٹے بعد ہوا، جسے طالبان حکومت نے اس ہفتے کے شروع میں مہلک فضائی حملوں کا جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔


پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے 133 افغان جنگجوؤں کو مارگرایا ہے، جب کہ کابل نے اپنے حملے میں 55 پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔


افغان حکام نے بتایا کہ طورخم سرحدی چوکی کے قریب پاکستان سے واپس آنے والے لوگوں کے کیمپ میں کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔


حملے کا شکار ہوئے پاکستانی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا کو بتایا کہ اسلام آباد افغانستان کو فیصلہ کن جواب دے گا اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔


گورنر نے کہا کہ "ہم پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ردعمل کی نوعیت کا مطالعہ کر رہے ہیں، جو تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے۔ ماضی کے بحرانوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے، جب کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی برادری نے پاکستان سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا تھا۔