مشرق وسطیٰ

ایران پر حملوں میں توسیع کا منصوبہ مؤخر، میزائل ذخائر میں کمی پر امریکہ کو تشویش: رپورٹ

اس سے قبل ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کرتی رہی، تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا۔

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں نمایاں توسیع کے منصوبے کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حملوں میں شدت لانے سے فضائی دفاعی میزائلوں کے پہلے سے کم ہوتے ذخائر خطرناک حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔


اس سے قبل ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کرتی رہی، تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ٹرمپ نے ایران پر کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے ساتھ مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے حملوں کا سلسلہ رک گیا۔


نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم میں بڑے پیمانے پر توسیع کا منصوبہ ملتوی کیا ہے کہ جنگ میں شدت آنے سے مشرق وسطیٰ میں پینٹاگون کے فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور دیگر اسلحہ کے محدود ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔


امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ تنازع مزید پھیلنے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، خلیج فارس کے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ توانائی اور ہجرت سے متعلق بحران مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔


اخبار کے مطابق حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ جمعہ کو صدر ٹرمپ کی اپنے مشیروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا کہ اگرچہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، لیکن اس سے دفاعی میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔


رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں تقریباً کسی نے بھی فوجی کارروائی میں شدت لانے کے منصوبے کو دانشمندانہ قرار نہیں دیا۔ ایک عہدیدار نے شبہ ظاہر کیا کہ نئے بڑے حملے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے بجائے بیرونی خطرے کے مقابلے میں اسے مزید متحد کر دیں گے۔