تین سگی بہنوں نے ایک ہی نوجوان سے شادی کرلی، مندر کی ویڈیو وائرل، قانونی حیثیت پر بحث تیز
اترپردیش کے ضلع امروہہ سے ایک غیرمعمولی شادی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تین سگی بہنوں نے ایک ہی نوجوان سے ہندو رسم و رواج کے مطابق مندر میں شادی کرلی۔
امروہہ (اترپردیش): اترپردیش کے ضلع امروہہ سے ایک غیرمعمولی شادی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تین سگی بہنوں نے ایک ہی نوجوان سے ہندو رسم و رواج کے مطابق مندر میں شادی کرلی۔ اس شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں اس کی قانونی حیثیت، ذاتی آزادی اور سماجی روایات پر بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ شادی 17 جولائی کو چامنڈا ماتا مندر میں ہوئی، جہاں سروج (20)، ساوتری (19) اور سنتوش (18) نے وکاس نامی نوجوان سے شادی کی۔ وکاس گزشتہ چند ماہ سے ان تینوں بہنوں کے ساتھ بطور کیمرہ مین کام کر رہا تھا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وکاس نے تینوں دلہنوں کی مانگ میں سندور بھرا اور ان کے ساتھ سات پھیرے بھی لیے۔ شادی کی تقریب نہایت سادہ انداز میں منعقد ہوئی، جہاں صرف پنڈت موجود تھا جبکہ دونوں خاندانوں کے افراد یا دیگر مہمان نظر نہیں آئے۔
ایک ہی شخص سے شادی کیوں؟
امروہہ کے حسن پور علاقے کے دھوریا گاؤں کی رہنے والی یہ تینوں بہنیں سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہمیشہ ایک ساتھ رہی ہیں اور شادی کے بعد الگ ہونا انہیں کسی صورت قبول نہیں تھا۔
بڑی بہن سروج نے کہا کہ جب انہیں احساس ہوا کہ مختلف شادیوں کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گی تو انہوں نے خودکشی تک کا سوچا، لیکن بعد میں فیصلہ کیا کہ ایک ہی شخص سے شادی کرکے ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ تینوں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے۔
وکاس نے کیا کہا؟
وکاس کے مطابق وہ تقریباً چھ ماہ سے تینوں بہنوں کے ساتھ کام کر رہا تھا اور ان کی ویڈیوز میں اکثر شوہر کا کردار ادا کرتا تھا۔ اس دوران بہنوں نے کئی بار اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ شادی کے بعد بھی ایک ساتھ رہنا چاہتی ہیں، جس کے بعد انہوں نے وکاس کو شادی کی پیشکش کی۔
وکاس نے کہا کہ اس نے بہنوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے رضامندی سے شادی کا فیصلہ کیا اور امید ظاہر کی کہ لوگ ان کے فیصلے کا احترام کریں گے۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
شادی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اس پر مزاحیہ تبصرے کیے، جبکہ کئی افراد نے بالغ افراد کے ذاتی فیصلے کو ان کا حق قرار دیا۔
دوسری جانب متعدد لوگ نے اس شادی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو میرج ایکٹ 1955 کے تحت ہندوؤں میں ایک سے زیادہ شادی قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔