سوشیل میڈیاشمالی بھارت

عید کی خریدی کرکے لوٹنے والے مسلم لڑکے پر اترکھنڈ میں پولیس کا تشدد (ویڈیو)

اتراکھنڈ کے رُدرپور میں پولیس کے ہاتھوں ایک مسلم لڑکے پر بہیمانہ تشدد کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔عارش نامی لڑکے کو جو عید کی خریداری کے بعد اپنی بائیک پر واپس جا رہا تھا دو سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے بلا وجہ روک کر بری طرح پیٹا۔

دہرادون: اتراکھنڈ کے رُدرپور میں پولیس کے ہاتھوں ایک مسلم لڑکے پر بہیمانہ تشدد کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔عارش نامی لڑکے کو جو عید کی خریداری کے بعد اپنی بائیک پر واپس جا رہا تھا دو سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے بلا وجہ روک کر بری طرح پیٹا۔

کلارین کے مطابق یہ واقعہ اندرا چوک پر پیش آیا جہاں پولیس نے بغیر کسی وجہ کے عارش کو روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس والوں نے اُس وقت بھی کوئی رحم نہیں کیا جب عارش نے انہیں بتایا کہ وہ رمضان کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔ بعد ازاں اسے رام پورہ پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں اُسے ہتھکڑیاں لگا کر ایک بند کمرے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جب اس کے اہلِ خانہ چوکی پہنچے تو پولیس نے اسے تھپڑ مارے اور جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔یہ معاملہ منگل کے روز اُس وقت منظرعام پر آیا جب مقامی مکین، کانگریس لیڈر موہن کھیڑا اور تاجروں کی تنظیم کے سنجے انوجا نے کوتوالی تھانے جا کر پولیس کے سامنے احتجاج درج کرایا۔متاثرہ کے والد عتیق نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ اُن کے بیٹے پر بلاجواز تشدد کیا گیا۔

اہلِ خانہ نے ملوث پولیس ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس تھانے کے انچارج نے معاملے کی تحقیقات اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ایک ویڈیو میں عارش کے ہاتھ اور پیٹھ پر تشدد کے نشانات واضح نظر آ رہے ہیں۔واقعے کے بارے میں عارش نے بتایا”میں عید کے لیے کپڑے خرید کر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں پولیس نے مجھے روک لیا۔

انہوں نے میری بائیک کی چابی نکال لی اور برا بھلا کہہ کر مارنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے پولیس چوکی لے جایا گیا۔“ عارش نے مزید کہا”’چوکی میں لے جا کر مزید تشدد کیا گیا۔ میں نے ٹوپی پہن رکھی تھی جب انہوں نے یہ دیکھا تو دوبارہ مارا۔ بیلٹ اور دیگر چیزوں سے مارا پیٹا گیا۔ میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں اور کچھ نہیں کھایا، لیکن اس پر بھی مزید مارا گیا۔“عارش نے پولیس اہلکاروں کی شناخت وجے اور مہیش کے نام سے کی ہے۔

اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غصہ اور بے چینی پھیل گئی۔ شہریوں نے تھانے کے باہر جمع ہو کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب رُدرپور کے سی او پرشانت کمار نے کہا کہ ابھی تک ان کے علم میں یہ واقعہ نہیں آیا۔ اگر نابالغ لڑکے پر تشدد کی شکایت موصول ہوتی ہے تو تحقیقات کی جائیں گی، اور رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس تشدد اور نفرت انگیز حملوں کے بیشتر واقعات میں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ملک کی کل آبادی کا 14 فیصد حصہ ہونے کے باوجود، مسلمان مسلسل ظلم، پسماندگی اور سرکاری بے حسی کا شکار ہیں۔