گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ریاست تلنگانہ کو ابتداء ہی سے گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال اُس وقت سامنے آئی جب ضلع میدک کے منڈل شیوم پیٹ کے قدیم گاؤں و گرام پنچایت کونتان پلی سے تعلق رکھنے والے چار ہندو نوجوان اپنے مسلم استاد کے گھر اظہارِ تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔
حیدرآباد: ریاست تلنگانہ کو ابتداء ہی سے گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال اُس وقت سامنے آئی جب ضلع میدک کے منڈل شیوم پیٹ کے قدیم گاؤں و گرام پنچایت کونتان پلی سے تعلق رکھنے والے چار ہندو نوجوان اپنے مسلم استاد کے گھر اظہارِ تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق مسمی بی سرینواس، وی روی کمار، جی رام چرن اور کے نوین کمار اپنے سابق صدر مدرس، معروف شاعر، ادیب اور کالم نگار جناب سید فرید احمد المعروف فرید سحر کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرنے کے لیے اندرون فتح دروازہ، حیدرآباد واقع ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ طلبہ نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے استاد کے غم میں شرکت کی اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔
طلبہ نے شال پوشی کے ذریعے اپنے استاد کی عزت افزائی کی اور میوؤں کا تحفہ پیش کرتے ہوئے اُن سے وابستہ پرانی یادوں کو تازہ کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگلے دن ان کی اہم مذہبی تقریب “مہا شیو راتری” تھی اور وہ روزہ کی حالت میں تھے، اس کے باوجود طویل مسافت طے کر کے اپنے استاد کے دکھ میں شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ جناب سید فرید احمد نے 1981 سے 2000 تک ضلع پریشد ہائی اسکول کونتان پلی میں بطور ہیڈ ماسٹر خدمات انجام دیں۔ انہیں منڈل اور ضلع کی سطح پر پانچ مرتبہ بیسٹ ٹیچر اور بیسٹ ہیڈ ماسٹر ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے برسوں بعد بھی ان کے طلبہ انہیں عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں اور مختلف مواقع پر ان سے ملاقات کر کے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
اس موقع پر طلبہ نے اپنے سابق صدر مدرس کو آئندہ ماہ کونتان پلی میں منعقد ہونے والے ایک خصوصی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت بھی دی، جسے جناب فرید سحر نے خلوص کے ساتھ قبول کر لیا۔
ملک کے موجودہ حالات میں جب فرقہ واریت کے خدشات اکثر زیر بحث رہتے ہیں، اس واقعہ نے بھائی چارے، انسانیت اور باہمی رواداری کا ایک مثبت پیغام دیا ہے، جو تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کی روشن روایت کی عکاسی کرتا ہے۔