حیدرآباد

پریدیپ کنسٹرکشنز اراضی تنازعہ، حائیڈرا نے عدالت سے دو ہفتہ کی مہلت مانگ لی

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، پریڈیپ کنسٹرکشنز کمپنی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ اراضی فل ٹینک لیول (FTL) کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت کے ریکارڈ پر اس سلسلے میں دستاویزات بھی پیش کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد: پریڈیپ کنسٹرکشنز سے متعلق اراضی کے معاملے میں ہائیڈرا (HYDRA) نے عدالت سے اپنا کاؤنٹر داخل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت طلب کی ہے۔ ہائیڈرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارے کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، پریڈیپ کنسٹرکشنز کمپنی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ اراضی فل ٹینک لیول (FTL) کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت کے ریکارڈ پر اس سلسلے میں دستاویزات بھی پیش کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، ہائیڈرا نے 15 جولائی سے متعلق عدالتی کارروائی کے تناظر میں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی ہے۔ ہائیڈرا کے وکیل نے عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنا کاؤنٹر داخل کرنا چاہتا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ ہائیڈرا کی جانب سے اس معاملے پر عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا گیا ہے، جبکہ پریڈیپ کنسٹرکشنز نے اپنی اراضی کو FTL حدود سے باہر قرار دیا ہے۔

اب عدالت کی جانب سے ہائیڈرا کی مزید وقت دینے کی درخواست پر فیصلہ متوقع ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کی جانب سے اراضی کی حیثیت اور FTL حدود سے متعلق اپنے اپنے دعووں اور دستاویزات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

حیدرآباد میں جھیلوں کے تحفظ، FTL اراضی اور تعمیرات کے معاملات پر ہائیڈرا کی کارروائیوں کے تناظر میں یہ معاملہ خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت کی آئندہ کارروائی سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ متنازعہ اراضی FTL حدود میں آتی ہے یا نہیں۔