22 نیٹ طلبہ کی مبینہ اموات پر دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ، عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کا احتجاج
طلبہ تنظیموں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر بھی شدید اعتراض کیا۔ مظاہرین نے سوال کیا کہ اگر احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جائے تو کیا حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟
حیدرآباد: نیٹ امتحان سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل کے خلاف حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران طلبہ تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ اگر نیٹ سے متعلق تنازع کے دوران 22 طلبہ کی مبینہ طور پر جانیں گئی ہیں تو کیا اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے؟
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں طلبہ اور مختلف تنظیموں کی جانب سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیے جانے کے باوجود وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
طلبہ تنظیموں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر بھی شدید اعتراض کیا۔ مظاہرین نے سوال کیا کہ اگر احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جائے تو کیا حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟
احتجاج کرنے والی طلبہ تنظیموں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ طلبہ کے مستقبل اور ان کے مسائل کو ترجیح دینے کے بجائے سیاسی عہدوں اور بڑے کاروباری مفادات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان اور دیگر مسابقتی امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور طلبہ کے مطالبات پر فوری توجہ دی جائے۔
طلبہ تنظیموں نے دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔