مذہب

درودِ ابراہیمی کے بعد غیر عربی دعائیں

قعدہ اخیرہ میں درودِ ابراہیمی کے بعد قرآن وحدیث سے ثابت ساری یا زیادہ سے زیادہ دعائیں کیا پڑھی جاسکتی ہیں؟ کیا عربی کے علاوہ دوسری زبان مثلا اردو میں دعاء مانگی جاسکتی ہے ؟

سوال:- قعدہ اخیرہ میں درودِ ابراہیمی کے بعد قرآن وحدیث سے ثابت ساری یا زیادہ سے زیادہ دعائیں کیا پڑھی جاسکتی ہیں؟ کیا عربی کے علاوہ دوسری زبان مثلا اردو میں دعاء مانگی جاسکتی ہے ؟(مجاهد الاسلام، حشمت پیٹ)

جواب:- (الف) درودِ ابراہیمی کے بعد تنہا نماز ادا کرنے والا شخص اگر قرآن وحدیث میں مذکورہ بہت سی دعائیں پڑھ لے ، تو حرج نہیں ؛بلکہ انشاء اللہ باعثِ اجر و ثواب ہوگا ،

رسول الله ﷺ سے اللہم إني ظلمت نفسي إلخ کے علاوہ اور بھی دعائیں اس موقع پر پڑھنا منقول ہے ، یہاں ان کا تذکرہ طوالت کا باعث ہوگا ؛ اس لئے چند حوالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے ،

(دیکھئے : ابوداؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقول بعد التشہد ، سنن نسائی ، کتاب الصلاۃ ، باب الدعاء بعد الذکر ، سنن بیہقی ، کتاب الصلاۃ ، باب ما یستحب لہ أن لا یقصر عنہ من الدعاء قبل السلام ، مصنف عبد الرزاق ، باب القول بعد التشہد ، حدیث نمبر : ۳۰۸۲، عن ابن مسعود ص ، وحدیث نمبر : ۳۰۸۶، عن عائشۃ وغیرہ ) – ا

لبتہ جو شخص امامت کرے ، اس کو ’’ اللہم إني ظلمت نفسي إلخ‘‘ والی متداول دعا یا اتنی ہی مقدار قرآن و حدیث میں مروی کوئی دوسری دعا پڑھنی چاہئے، زیادہ لمبی دعاء نہیں پڑھنی چاہئے ؛ تاکہ لوگوں کے لئے مشقت اور حرج کا باعث نہ ہو ۔

(ب) جہاں تک اردو میں دعاء کرنے کی بات ہے ، تو نماز سے باہر اس میں کوئی حرج نہیں ، نماز کے اندر عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دعاء کرنے کے سلسلہ میں فقہاء کے تین نقاطِ نظر ہیں :

ایک رائے یہ ہے کہ نماز میں غیر عربی زبان میں دعاء کرنا حرام ہے ، اس کو بعض فقہاء حنفیہ نے علامہ قرافی مالکی ؒ کے حوالہ سے نقل کیا ہے ،

دوسرا نقطۂ نظر امام ابوحنیفہؒ کا ہے کہ غیر عربی میں دعاء کرنا جائز ہے ،

تیسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ اورخلاف اولی ہے ،

علامہ شامیؒ -جو بڑے محقق حنفی فقیہ ہیں – کا رجحان یہ ہے کہ نماز میں غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور نماز کے باہر غیر عربی میں دعاء مکروہ تنزیہی ، یعنی خلاف مستحب ، (دیکھئے : رد المحتار : ۲/۲۳۴) –

بہر حال علامہ شامیؒ کا نماز سے باہر بھی غیر عربی میں دعاء کو مکروہ تنزیہی قرار دینا تو ناقابل فہم ہے؛ البتہ اس سلسلہ میں ان کی رائے رسول اللہ ﷺ کے عمل ،

صحابه رضی الله عنهم کے آثار اور دین کے مزاج سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص عربی میں دعاء کرسکتا ہو ، نماز میں اس کا غیر عربی میں دعاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور جو شخص عربی میں دعاء کرنے پر قادر نہیں ہو ، جیسے نو مسلم حضرات ، ان کے لئے غیر عربی میں بھی دعاء کرنے میں حرج نہیں ، جیساکہ امام ابوحنیفہؒ کی اصل رائے ہے ۔ واللہ اعلم۔