شاپنگ مال میں نماز کی سہولت پر ہنگامہ (ویڈیو)
ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں واقع انوربٹ مال (Inorbit Mall’s) میں نماز کے لیے مختص کمرے کو مبینہ طور پر ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد بند کرکے منہدم کردیا گیا۔ اس معاملے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ممبئی: ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں واقع انوربٹ مال (Inorbit Mall’s) میں نماز کے لیے مختص کمرے کو مبینہ طور پر ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد بند کرکے منہدم کردیا گیا۔ اس معاملے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تنازعہ دو لڑکیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد شروع ہوا، جس میں وہ حجاب پہنے مال میں موجود نماز کے کمرے کا دورہ کرواتے ہوئے لوگوں کو نماز ترک نہ کرنے کی ترغیب دے رہی تھیں۔
ویڈیو میں لڑکیوں نے بتایا تھا کہ مال میں نماز کے لیے ایک باقاعدہ سہولت موجود ہے، جہاں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وضو کے لیے بھی خصوصی انتظام موجود ہے۔ تاہم، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بعض دائیں بازو کے افراد اور تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا اور اسے ممبئی میں ایک مخصوص مذہبی ماحول قائم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ہندوتوا تنظیم ساکل ہندو سماج (Sakal Hindu Samaj) نے 30 اکتوبر کو یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ممبئی پاکستان کی راہ پر گامزن ہے؟ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ مال میں نماز کے لیے مخصوص مقامات قائم کیے گئے ہیں، جہاں تمام مذاہب کے لوگ آتے ہیں۔ تنظیم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اسی مال میں ہندوؤں کو بھی اپنی مذہبی عبادت انجام دینے کی اجازت حاصل ہے؟
تنظیم نے مال کو عوامی مقام قرار دیتے ہوئے وہاں احتجاج کیا اور نماز کے کمرے کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے اگلے دن 31 اکتوبر کو تنظیم نے ایک اور ویڈیو شیئر کی، جس میں نماز کے کمرے کی مبینہ طور پر پہلے اور بعد کی صورتحال دکھائی گئی۔ ویڈیو کے ایک حصے میں کمرے کی ٹوٹی ہوئی ٹائلیں اور منہدم حالت نظر آرہی ہے۔
تاہم اطلاعات کے مطابق نماز کے کمرے کو منہدم کیے جانے سے متعلق ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی پولیس اور مال انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ ملک کے مختلف شاپنگ مالس میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی سہولت کے لیے نماز اور عبادت کے کمرے فراہم کرنے کا رواج نیا نہیں ہے۔ ایسے مقامات کا مقصد عوام کو خریداری اور دیگر سرگرمیوں کے دوران اپنی مذہبی عبادات انجام دینے کی سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے۔